جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کی ضلعی مجلسِ عاملہ اور ماتحت تحصیلوں و یونٹوں کے نمائندہ اجلاس ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق کی زیرِ صدارت ضلعی دفتر کوئٹہ میں منعقد ہوئے۔ اجلاس میں تنظیمی امور، عوامی مسائل، امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، عوام کو درپیش مشکلات اور آئندہ کے تنظیمی لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں ضلع کوئٹہ میں جماعتی نظم و نسق کو مزید فعال اور منظم بنانے کے لیے یکم اگست سے تمام ماتحت تحصیلوں اور یونٹوں کے دوروں کا فیصلہ کیا گیا جن کے لیے ضلعی مجلسِ عاملہ کے اراکین پر مشتمل 10 کمیٹیاں تشکیل دے کر ان کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا۔ یہ کمیٹیاں تنظیمی سرگرمیوں کا جائزہ لینے یونٹوں کے عاملہ اراکین سے ملاقات کرنے مسائل و تجاویز سننے اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے اپنے مقررہ یونٹوں کا دورہ کریں گی۔
اجلاس میں عوامی، سماجی اور شہری مسائل کے حل کے لیے مختلف کمیٹیوں کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا۔ یہ کمیٹیاں متعلقہ سرکاری اداروں اور حکام سے مسلسل رابطے کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں گی۔ فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹیوں کے اراکین روزانہ کی بنیاد پر ضلعی دفتر میں موجود رہیں گے جہاں کارکنوں اور شہریوں کے مسائل سن کر ان کے بروقت حل کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ اور پیروی کی جائے گی۔
اجلاس میں ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد سمیت ضلعی مجلسِ عاملہ کے اراکین، تحصیلوں اور یونٹوں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ایک نظریاتی جماعت ہے جس کی اصل قوت اس کے کارکنان مضبوط تنظیم اور عوامی خدمت میں مضمر ہے۔
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ جماعت کے ہر ذمہ دار اور کارکن میں احساسِ ذمہ داری، نظم و ضبط اور میدانِ عمل میں بھرپور فعالیت نمایاں ہو۔انہوں نے کہا کہ ماتحت تحصیلوں اور یونٹوں کے دوروں کا مقصد تنظیمی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنا کارکنان سے براہِ راست رابطہ استوار کرنا ان کے مسائل اور تجاویز سے آگاہی حاصل کرنا اور جماعتی سرگرمیوں میں مزید تیزی پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے تمام ذمہ داران کو ہدایت کی کہ وہ دورہ کمیٹیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور تنظیمی اہداف کے حصول کے لیے اپنی ذمہ داریاں اخلاص، دیانت اور احساسِ جوابدہی کے ساتھ ادا کریں۔مولانا عبدالرحمن رفیق نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام عوامی مسائل سے کبھی غافل نہیں رہی اور نہ ہی آئندہ رہے گی۔ عوام کو درپیش بجلی، گیس، پانی، مہنگائی، بے روزگاری، امن و امان اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے جماعت ہر سطح پر مؤثر آواز بلند کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر قائم کی گئی مختلف کمیٹیاں عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں رہیں گی تاکہ شہریوں کو حتیٰ المقدور فوری ریلیف فراہم کیا جاسکے۔انہوں نے بلوچستان خصوصاً کوئٹہ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ امن کے قیام، شہریوں کے تحفظ اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے مؤثر، سنجیدہ اور دیرپا اقدامات کریں․ انہوں نے تمام کارکنان پر زور دیا کہ وہ اتحاد، نظم، استقامت اور باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے جماعت کے پیغام کو گھر گھر پہنچائیں اور عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ اجلاس میں ضلعی مجلس عاملہ کے اراکین مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد محمدحسنی، مولانا حفیظ اللہ، حافظ رشید احمد، حافظ دوست محمد مینگل، حافظ شبیراحمد مدنی، حافظ مسعود احمد، حافظ سراج الدین، حاجی قاسم خان خلجی، حاجی ولی محمد بڑیچ، حاجی محمد شاہ لالا، عبدالصمد حقیار، مولانا شعیب جدون، مفتی نیک محمد، شاہ زاہد مشوانی، حافظ محمد عارف شمشیر، مفتی ابوبکر، مفتی رضا خان، میر سرفراز شاہوانی، حاجی ظفرکاکڑ، سیٹھ اجمل بازئی، مولوی علی جان، مولانا سید سعداللہ آغا، مولوی نقیب اللہ ملاخیل، مولانا جمال الدین حقانی، مفتی رشید احمد حقانی، حاجی عطاء محمد شمشوزئی، حافظ حبیب الرحمن نے شرکت کی۔









