پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام قلعہ سیف اللہ میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے پانچویں برسی کے موقع پر منعقدہ عظیم الشان جلس عام کی منظور شدہ قراردادیں1۔ جلس عام نے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کو پشتون قومی تحریک، جمہوریت، آئین کی بالادستی، قومی حقوق اور افغانستان میں بیرونی مداخلت کے خلاف ان کی تاریخی جدوجہد پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں جدید پشتون قومی تحریک کا عظیم رہنما قرار دیا اور ان کے افکار و نظریات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
جلس عام نے پشتون ، بلوچ مشترکہ صوبے میں پشتون عوام کے ساتھ بجٹ، ترقیاتی منصوبوں، سرکاری ملازمتوں اور وسائل کی تقسیم میں امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے سابق برٹش بلوچستان (چیف کمشنر صوبہ) پر مشتمل جنوبی پشتونخوا صوبے کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
جلس عام نے سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر، نور اللہ ترین، ہانی پشتون، صمد لالا، صادق خان خجک، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
جلس عام نے ملک میں جاری غیر جمہوری طرزِ حکمرانی کو مسترد کرتے ہوئے آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا تاکہ اقتدار حقیقی عوامی نمائندوں کے حوالے کیا جا سکے۔جلس عام نے سبی سے چترال تک پشتونخوا، پشتونستان یا افغانیہ کے نام سے متحدہ پشتون قومی وحدت (صوبہ) کے قیام اور موجودہ مشترکہ صوبے میں پشتون و بلوچ اقوام کے درمیان وسائل، ملازمتوں، بجٹ اور تعلیمی مواقع کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کیا۔
جلس عام نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم، پیکا ایکٹ اور مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے انہیں وفاقی اکائیوں کے حقوق کے منافی قرار دیا اور ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔جلس عام نے افغانستان میں ہر قسم کی مداخلت اور جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے افغانستان کی خودمختاری، سالمیت اور آزادی کے احترام کا مطالبہ کیا۔ اور جلسہ عام کے شرکا نے افغانستان کے موجودہ رجیم سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں خواتین کے تعلیم پر پابندی ختم کریں اور انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے افغانستان میں فی الفور لویہ جرگہ بلاکر نئے آئین کی تشکیل کریں اور افغانستان میں انتخابات کے ذریعے اقتدرا عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔
جلس عام نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی رہائی اور سیاسی اختلافات کے حل کے لیے جمہوری راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔جلس عام نے صوبائی امور میں غیر منتخب اداروں کی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے سول اداروں کی خودمختاری اور ترقیاتی فنڈز کی شفاف تقسیم کا مطالبہ کیا۔جلس عام نے پشتونخوا وطن میں بدامنی، دہشت گردی، لاقانونیت اور قدرتی وسائل پر ناجائز قبضوں کی مذمت کرتے ہوئے پائیدار امن کے قیام کا مطالبہ کیا۔
جلس عام نے نجی لشکروں اور مسلح گروہوں کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور غیر قانونی مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔جلس عام نے سیاسی کارکنوں کے خلاف درج مقدمات، تھری ایم پی او اور فورتھ شیڈول کے خاتمے اور سیاسی سرگرمیوں پر عائد غیر اعلانیہ پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
جلس عام نے چمن دھرنے کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ڈیورنڈ لائن کے مقامات چمن، شوراوک، انگور اڈہ، غلام خان، باجوڑ ، تورخم اور دیگر پر تجارتی راستوں کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا۔جلس عام نے یارو سانحہ سمیت صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور مثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
جلس عام نے ڈیورنڈ لائن کے اطراف آباد عوام کی جبری بے دخلی کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے سرحدی آبادیوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔جلس عام نے مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ اور بے روزگاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔جلس عام نے بلوچستان گرینڈ الائنس اور سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے گرفتار ملازمین کی فوری رہائی اور مسائل کے مستقل حل کا مطالبہ کیا۔
جلس عام نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔جلس عام نے 2022 اور بعد ازاں بارشوں، ژالہ باری اور سیلاب سے متاثرہ عوام کو فوری معاوضوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔جلس عام نے جنوبی پشتونخوا میں قائم غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے اور عوام کو بلاجواز ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔جلس عام نے کوئٹہ۔کراچی شاہراہ سمیت قومی شاہراہوں پر مسافروں کو لوٹنے اور ہراساں کرنے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے شاہراہوں کو محفوظ بنانے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا








