کچی کینال منصوبے میں تعمیراتی معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، احسن اقبال

11

وفاقی وزیر احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ کچی کنال منصوبے میں تعمیراتی معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امور پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کچی کینال فیز ٹو کے منصوبے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی اراضی کے معاملے، علامہ اقبال یادگار اور اقبال لائبریری سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں لورالائی اور ڑوب کو ملانے والے 35 کلومیٹر سڑک منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کا بھی جائزہ لیا گیا اور وزیراعظم کی ہدایات پر منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔

کچی کنال منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے میں تعمیراتی معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ حکومتِ بلوچستان کو تمام دستیاب آپشنز پر اعتماد میں لیا جائے تاکہ منصوبے کو مؤثر اور شفاف انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی اراضی سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے سی ڈی اے کی جانب سے اراضی کی فراہمی میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2017 سے 2020 کے درمیان پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی جانب سے تقریباً چار ارب روپے سی ڈی اے کے پاس جمع کرائے گئے، تاہم چھ سال گزرنے کے باوجود ادارے کو اراضی فراہم نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ 2022 سے سی ڈی اے سے مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے، مگر اب تک کوئی قابلِ عمل پیش رفت نہیں ہوئی، جبکہ جو اراضی مختص کی جاتی ہے وہ اکثر قانونی یا ملکیتی مسائل کا شکار نکلتی ہے۔

احسن اقبال نے واضح کیا کہپاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کو ہر صورت اراضی درکار ہے اور اگر سی ڈی اے کے پاس مناسب اراضی دستیاب نہیں تو ادارے کی رقم واپس کی جائے۔ انہوں نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ اس معاملے پر فوری طور پر واضح جواب دیا جائے کہ یا تو اراضی فراہم کی جائے یا چار ارب روپے واپس کیے جائیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ایک سرکاری ادارے کے ساتھ اس نوعیت کا طرزِ عمل اختیار کیا جائے گا تو عام شہریوں کے ساتھ کیا صورتحال ہوگی، اس لیے اس معاملے کو مزید التوا میں نہیں رکھا جا سکتا۔علامہ اقبال یادگار اور اقبال لائبریری منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ یہ لائبریری بین الاقوامی معیار کی حامل اور دیگر شہروں کیلئے رول ماڈل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال علامہ اقبال کا سال منایا جا رہا ہے،

اس لیے منصوبے پر بلا تاخیر کام شروع کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے سی ڈی اے کو لائبریری سے متعلق سمری تین روز کے اندر موو کرنے کی ہدایت بھی کی۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے متعلقہ حکام کو تمام منصوبوں اور امور پر پیش رفت تیز کرنے اور وزیراعظم کی ہدایات پر مقررہ مدت میں عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں