نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہاکہ پاکستان کامسئلہ نئے صوبے بنانا یا صوبوں کی تقسیم نہیں بلکہ جمہوری وسیاسی عمل کا تسلسل اور معیشت کا استحکام ہے، آئین کی پاسداری اورجمہوریت کی عملداری نہ ہونے سے عوامی بے چینی بڑھتی جارہی ہے، بلوچستان کے ساتھ ساتھ کے پی کے، گلگت اور کشمیر میں بھی حالات خراب ہیں،
عالمی سطح پر پاکستان کے بڑی طاقتوں سے اچھے تعلقات ہیں تاہم بلوچستان سمیت اندرونی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سول اورملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اصل ایشوز کو ایڈریس کرنا اور اعتماد سازی کی طرف جانا ہوگا،
نیشنل پارٹی کی قیادت نے ملک کی سیاسی قیادت ملاقاتیں کرکے ان کے سامنے بلوچستان کامقدمہ پیش کیا ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کے روز تربت پریس کلب آڈیٹوریم میں پروگرام ’’گند ء ْ نند‘‘ کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا اس موقع پر نیشنل پارٹی کے رہنما محمد جان دشتی، فداجان بلیدی، ضلعی صدر یونس جاوید، معتبر شیرجان، وحید اختر ودیگر ان کے ہمراہ تھے۔
سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہاکہ نئے صوبوں کے قیام کامطالبہ کسی بھی مین اسٹریم سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، جے یو آف کا نہیں ہے، پاکستان میں بلوچستان کے سوا دیگر صوبے قیام پاکستان سے قبل 1901ء کے تشکیل کردہ صوبے ہیں، نئے صوبوں کا قیام معاملات کومزید خراب کرنے کاباعث بن سکتاہے،
انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ اسلام آباد کو بلوچ اوربلوچستان کے مشکلات سے آگاہ کرے، طاقت کے ذریعے کے معاملات کو بہتر بنانے کی پالیسی کارگرثابت نہیں ہوسکتی، نیشنل پارٹی جمہوری وسیاسی اداروں کا حصہ بن کر ان کے ذریعے مسائل کا حل چاہتی ہے مگرہم دیکھ رہے ہیں کہ رویے اس طرح نہیں ہیں، بلوچستان کسی ایک مسئلہ کاشکار نہیں ہے بلوچستان میں تعلیم کے ایشوز ہیں بے روزگاری، بارڈر ٹریڈ، زراعت، زیرزمین پانی کے ایشوزہیں عام آدمی کے تحفظ کا مسئلہ ہے بڑے پیمانے پر لاپتہ افراد کا ایشو ہے جس کی آئین کسی بھی طرح اجازت نہیں دیتی،
ان تمام ایشوز کو کس طرح حل کیاجائے گا، شاہراہیں غیرمحفوظ ہیں، انہوں نے کہاکہ جمہوری نظام برائے نام قائم ہے انتخابات میں ووٹ کسی اور کو پڑتے ہیں کامیاب کوئی اور ہوتا ہے، جو عوامی وسیاسی بے چینی کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ جو نمائندہ عوام کے ووٹوں کے بجائے فارم47کے ذریعے مسلط کئے جاتے ہیں وہ خود کو عوام کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے، انہوں نے کہاکہ ہمارے خیال میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی مسئلہ ہے،
بلوچستان کے 12 قانونی بارڈر ہیں جن میں 6 فی الحال بند ہیں، حکومت بلوچستان پر کیوں کر توجہ دے گی جبکہ حکومت سازی میں بلوچستان کا کوئی رول نہیں ہے کیونکہ قومی اسمبلی کی کل 336نشستوں میں سے بلوچستان کی صرف20نشستیں ہیں جبکہ پنجاب کی کل 173نشستیں ہیں حکومت سازی کیلئے صرف پنجاب کے ارکان کافی ہیں، بلوچستان سمیت دیگر چھوٹے صوبوں کو مناسب نمائندگی کی ضرورت ہے، انہوں نے کہاکہ پاکستان کے اس وقت چین، امریکہ، روس سے اچھے تعلقات ہیں، ایران، سعودیہ، ترکی ودیگر ممالک کے ساتھ بھی مراسم اچھے ہیں اس ریجن میں پاکستان مضبوط عسکری قوت کے طورپر ابھرا ہے تاہم علاقائی واندرونی کنفلیکٹ کے حل کیلئے مثبت پالیسیوں اور اچھے کردار کی ضرورت ہے۔









