7 اور 8 اگست کو کوئٹہ بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال ہوگی، رحیم آغا

26

انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ) کے صدر رحیم آغا‘جنرل سیکرٹری ولی افغان‘حاجی اسلم ترین‘حاجی داؤد خلجی‘حاجی عبدالنافی نورزئی‘راجہ محمد ایوب گجر‘ولی محمد ترین‘اسد خان‘اکمل خان‘مطیع اللہ‘بخت کاکڑ‘عبدالحکیم الکوزئی‘بشیر خان سنجرانی ودیگر عہدیداروں نے کہا ہے میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے جناح کلاتھ مارکیٹ، عسکری مارکیٹ اور دیگر مارکیٹوں کے کرایہ دار دکانداروں کو بے دخل کرنے کی کوششیں اور عدالتی فیصلوں کے باوجود تاجروں کو مسلسل ہراساں کرنا قابلِ مذمت ہے.

تاجر برادری کئی دہائیوں سے ان مارکیٹوں میں کاروبار کر رہی ہے، لہٰذا طاقت کے استعمال اور دباؤ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا مستقل اور منصفانہ حل نکالا جائے جائز مطالبات کے حل کے لئے 7 اور 8 اگست کو کوئٹہ بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال ہوگی،یہ بات انہوں بیان جاری کرتے ہوئے کہی،انہوں نے کہا کہ انجمن تاجران بلوچستان ہمیشہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کمشنر کوئٹہ ڈویژن کا تاجروں کے ساتھ رویہ غیر مناسب اور ظالمانہ ہے، جس سے تاجروں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے.

اگر کمشنر کا یہی رویہ برقرار رہا اور سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہ کیا گیا تو تاجر برادری احتجاج اور ہڑتال کی طرف جانے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال بھی تاجر برادری کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ حکومت نے متعدد بار قومی شاہراہوں پر ٹرانسپورٹرز اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی یقین دہانیاں کرائیں، لیکن بدقسمتی سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ آج قومی شاہراہوں پر مسافر کوچز، مال بردار ٹرکوں، گیس بردار گاڑیوں اور عام شہریوں پر حملے کیے جا رہے ہیں، گاڑیوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے، بے گناہ افراد شہید ہو رہے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ انجمن تاجران بلوچستان پاک فوج، ایف سی، پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف دی گئی۔

قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، تاہم حکومت بلوچستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان قربانیوں کو مؤثر اقدامات کے ذریعے امن کے قیام میں تبدیل کیا جائے تاکہ تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے حکومت بلوچستان، چیف سیکرٹری، کمشنر کوئٹہ ڈویژن، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ تاجروں کے جائز مطالبات پر فوری مذاکرات کیے جائیں اور تمام عدالتی فیصلوں، قانونی دستاویزات اور حقائق کی روشنی میں مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر فوری مذاکرات نہ ہوئے، کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا اور تاجروں کے آئینی و قانونی حقوق کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ) 7 اور 8 اگست کو کوئٹہ بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کرے گی۔ اس ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے تمام مارکیٹ ایسوسی ایشنز، تاجر تنظیموں، ٹرانسپورٹرز، وکلاء، سیاسی و مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے تعاون کی اپیل کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انجمن تاجران بلوچستان تصادم پر نہیں بلکہ مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور چاہتی ہے کہ تمام مسائل افہام و تفہیم کے ذریعے حل ہوں، تاہم اگر تاجروں کے جائز حقوق پامال کیے گئے تو تاجر برادری اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور قانونی راستہ اختیار کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں