سعودی عرب پر حوثی حملے ناقابل قبول، پاکستان کا سلامتی کونسل میں دوٹوک مؤقف

12

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نئے سیکریٹری خارجہ عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اپنے دفاع کے جائز حق کی بھی حمایت کرتا ہے۔

یمن کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ یمن کا بحران انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی اہداف پر حوثیوں کے حملوں سے نہ صرف علاقائی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے باب المندب کے اطراف حوثی سرگرمیوں میں اضافے کو بھی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہاز رانی کے خلاف کارروائیاں آزادانہ بحری نقل و حرکت اور عالمی تجارت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔

اہم بحری گزرگاہوں کو خطرے میں ڈالنے یا انہیں تنازع کا حصہ بنانے کے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یمن میں 2022 سے برقرار نسبتاً پُرسکون ماحول بدقسمتی سے ختم ہوچکا ہے اور مسلسل کشیدگی کے نتیجے میں ملک میں دوبارہ وسیع پیمانے پر جنگ بھڑکنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی حالیہ دنوں میں باب المندب کے اطراف بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے مغربی ساحل پر لڑائی میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اس لیے سفارتی کوششوں میں فوری تیزی لانا ہوگی۔ حالیہ کشیدگی کے باعث یمن میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے اندرون ملک بے گھر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ اسلام آباد یمن میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی، جامع اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل کی بحالی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سیاسی تصفیے کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

عاصم افتخار کے مطابق یمن کے بحران کا جامع سیاسی حل ہی پائیدار امن اور وسیع تر علاقائی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو آگے بڑھانے اور یمن میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں