امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی اپیل پر جماعت اسلامی کے کوئٹہ اسلام آباد لانگ مارچ کی پہلی برسی کے موقع پر صوبہ بھر میں بدامنی، دہشت گردی،لاپتہ افراد، ٹارگٹ کلنگ اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے خلاف “بلوچستان کو امن دو” کے عنوان سے ضلعی ہیڈکوارٹرز، پریس کلبوں اور عوامی مقامات پر احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور جلسے منعقد کیے گئے۔
مظاہرین نے حکومت، متعلقہ اداروں اور سکیورٹی انتظامات کی ناکامی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بلوچستان میں پائیدار امن کے حق میں نعرے لگائے۔خضدار، لورالائی، ژوب، مستونگ، لسبیلہ، ڈیرہ مراد جمالی، ڈیرہ اللہ یار، آواران، جھل مگسی، گنداواہ، جعفرآباد، صحبت پور، نصیرآباد اور دیگر اضلاع میں منعقدہ احتجاجی اجتماعات سے نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان و امیر ضلع جعفرآباد پروفیسر مولانا محمد ایوب منصور،مولانا محمد اسلم،نورالدین غلزئی،عبدالحمیدناصر،حافظ خالدالرحمن شاہوانی،حافظ صفی اللہ شاہوانی،بشیر احمد ماندائی، فہد خان مندوخیل، خاوند بخش مینگل، محمد یونس، مولانا عبیداللہ ساسولی، فضل الرحمن لاشاری، عبدالصمد کھوسہ، عبدالروف رونجہ اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اب بنیادی انسانی، آئینی، معاشی اور سیاسی حقوق سے بھی بڑھ کر صرف امن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی نااہلی اور متعلقہ اداروں کی ناکامی کے باعث صوبہ مسلسل بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔اگرحکمران جماعت اسلامی کے ایک سال پہلے لانگ مارچ کے جائزمطالبات مان لیتے توآج بلوچستان میں امن ہوتااورحالات اتنے خراب نہ ہوتے۔
اب بھی وقت ہے حکومت جماعت اسلامی کے لانگ مارچ سے کیے گیے وعدے پورے کریں۔آج بلوچستان میں نہ شاہراہیں محفوظ ہیں، نہ شہر اور دیہات،ہر طرف خوف،دہشت، قتل و غارت گری اور عدم تحفظ کا ماحول قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے بیرونی عناصر،کالعدم تنظیموں کا نام لے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اگر کوئی بھی دہشت گرد تنظیم بلوچستان میں امن خراب کر رہی ہے تو عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ریاستی اداروں،سیکورٹی فورسز کی آئینی ذمہ داری ہے۔
اسی مقصد کے لیے ہرسال قومی خزانے سے اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں، مگر بدقسمتی سے عوام کی جان ومال آج بھی غیر محفوظ ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی اصل ذمہ داری عوام کے جان و مال، شاہراہوں اور سرحدوں کا تحفظ ہے، مگر عوام کا تاثر ہے کہ توجہ اپنی ذمہ داریوں کی بجائے دیگر امور پر مرکوز ہے، جبکہ لیویز اور پولیس کو مطلوبہ وسائل اور اختیارات فراہم نہیں کیے جا رہے، جس کے باعث امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بدعنوانی،بے روزگاری، بارڈرز کی بندش، تجارتی سرگرمیوں کی تباہی،لاپتہ افراد، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی اور شہریوں میں عدم تحفظ کے احساس نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ دن کے وقت بھی شاہراہوں پر سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں رہا۔مقررین نے کہا کہ عوام کو اپنے حقیقی نمائندے آزادانہ طور پر منتخب کرنے کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہیجبکہ عدلیہ،میڈیا اور جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے مایوس کن حالات میں امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نی”بلوچستان کو امن دو” کی آواز بلند کرکے بلوچستان کے عوام کو امید دی ہے۔جماعت اسلامی عوام کے جان و مال کے تحفظ،پائیدار امن، آئینی و جمہوری حقوق، روزگار، تجارت کی بحالی اور بلوچستان کے وسائل پر عوام کے حق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر بلوچستان کے عوام مولاناہدایت الرحمان کی قیادت میں متحد ہو کر پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں تو امن، انصاف اور بنیادی حقوق کا حصول یقینی بنایا جا سکتا ہے۔









