بلوچستان، حکومتی اراکین نے اپنے ہی صوبائی وزیر کے خلاف اسمبلی میں قرارداد پیش کر دی

20

بلوچستان اسمبلی میں صوبائی وزیر میر صادق عمرانی کے دیے گئے بیان کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جس کے تحت ان کے خلاف ایوان میں مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کر دی گئی ہے۔

یہ مذمتی قرارداد صوبائی وزیر میر علی مدد جتک نے ایوان میں پیش کی۔ قرارداد کے دیگر محرکین میں صوبائی وزراء میر ضیاء اللہ لانگو، نور محمد دمڑ، بخت محمد کاکڑ سمیت اراکینِ اسمبلی برکت علی رند، اسفند یار کاکڑ، ہادیہ نواز اور فرح عظیم شاہ شامل ہیں۔

ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر علی مدد جتک نے کہا کہ میر صادق عمرانی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ صوبے کے 235 افراد کو اسلام آباد بلا کر بے عزت کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کانفرنس میں بلوچستان کے لوگوں کو انتہائی عزت و احترام دیا گیا تھا۔

علی مدد جتک نے کہا: “جس شخص کو ہماری پارٹی نے پارلیمانی لیڈر بنایا، وہ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔ میر صادق عمرانی کے الفاظ سے صوبے کے عوام کی شدید دل آزاری ہوئی ہے”۔

قرارداد کے ذریعے 31 اگست کے اسمبلی اجلاس میں کی گئی صادق عمرانی کی تقریر کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ان کے متنازع الفاظ کو اسمبلی کی سرکاری کارروائی (پروسیڈنگز) سے فوراً حذف کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں