ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کو قتل کرنا سنگین غلطی تھی: اسرائیلی رہنما کا اعتراف

23

اسرائیلی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ڈیموکریٹس پارٹی کے لیڈر یائر گولان نے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو قتل کرنا اسرائیل کی سنگین غلطی تھی اور ایران کیخلاف جنگ نے اسرائیل کی پوزیشن بدتر کردی ہے۔

ایک انٹرویو میں یائر گولان نے کہا کہ سینیئر خامنہ ای کو مارنے سے اسرائیل کے مفادات کو فائدہ نہیں پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ عمر رسیدہ اور طویل عرصے سے برسراقتدار لیڈر کا ہونا ہمیشہ خاص فائدے کا حامل ہوتا ہے اور سینیئر خامنہ ای کی عمر 86 برس تھی۔

اسرائیلی رہنما کا کہنا تھا کہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے سے ایران میں انقلابی حکومت کا تختہ الٹنے کے بجائے قدامت پسند مضبوط ہوئےاور اسرائیل کے اسٹریٹیجک مفادات کو نقصان پہنچا ۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے تاریخی موقع برباد کردیا۔ نیتن یاہو نے ایران جنگ میں ایسے غیرحقیقت پسندانہ اہداف رکھے جو حاصل کرنے میں اسرائیل کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک سوال پر یائر گولان نے اسرائیل کی الٹرا آرتھوڈوکس آبادی کو دوسروں پر گزار کرنے والے طفیلیے قراردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں