پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر سابق وفاقی وزیر میر دوستین خان ڈومکی نے کھڈ کوچہ میں ایڈیشنل جج اور گن کی شہادت پر افسوس اور ایڈیشنل سیشن طارق لاشاری کو زخمی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت انصاف فراہم کرنے والے ججز سمیت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔
جس کی بڑی وجہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ہے جب سے ہو اقتدار میں آئے ہیں بلوچستان کے حالات روز بروز بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اس لئے پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل حافظ عاصم منیر، صدر مملکت آصف علی زرداری اس کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں جب تک اقتدار سے نہیں ہٹائیں گے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
اپنے جاری کردہ بیان میں میر دوستین خان ڈومکی نے کہا کہ موجودہ حکومت اور وزیر اعلیٰ کو وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد جس تیزی سے پر امن بلوچستان کا خواب بکھرا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی آئے روز پاک فوج، فرنٹیئر کور، پولیس، بلوچستان کانسٹیبلری، اے ٹی ایف فورسز سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ جانیں قربان کررہے ہیں لیکن حکومت اور چیف ایگزیکٹو صوبے کی بہتری امن کی بحالی کیلئے جو کردار ادا کرنا چاہئے وہ ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
اس وقت صوبے سے اندرون ملک اور دیگر صوبوں کو جانے اور کوئٹہ آنے والی ٹرین سروس معطل ہے اور صوبے کی قومی شاہراہیں غیر محفوظ ہیں شام ہوتے ہی شاہراہوں اور صوبے میں حکومت کی رٹ ختم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے صوبے سے دوسرے صوبوں، اندرون صوبہ اور شہروں کو جانے والی پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ سروس بند کردی جاتی ہے آئے روز فورسز پر دہشت گردانہ حملے ہورہے ہیں جس میں ہمارے جوان شہادتیں پیش کررہے ہیں لیکن حکمرانوں کے کان پر کوئی جوں تک نہیں رینگ رہی اتنے بڑے سانحات ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ سمیت کسی بھی ذمہ دار حکومتی عہدیدار نے اپنے منصب سے استعفیٰ نہیں دیا کیونکہ چیف ایگزیکٹو کے فیصلے صوبے کے حالات کو مزید پیچیدہ اور بحرانوں کی جانب دھکیل رہے ہیں۔
اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں منصب سے ہٹا کر کسی ذمہ دار فرض شناس شخص کو یہ ذمہ داری سونپی جائے تاکہ وہ بلوچستان کو پر امن بنانے کے ساتھ صوبے میں لگنے والی آگ کو ٹھنڈا کرسکیں۔ اور لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔









