ریکو ڈک منصوبے کی سکیورٹی کے لیے ایف سی بلوچستان کو اضافی 567 ملین روپے کی منظوری

30

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں ریکو ڈک منصوبے سے متعلق سرگرمیوں کے لیے سکیورٹی کے انتظامات کو یقینی بنانے کی غرض سے فرنٹیئر کور بلوچستان (جنوبی) کے لیے 567.032 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ (Technical Supplementary Grant) منظور کرلی۔

یہ گرانٹ وزارت داخلہ و انسداد منشیات ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی تجویز پر منظور کی گئی، جس کی رقم وزارت خزانہ کی بچت سے فراہم کی جائے گی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ فیصلہ ای سی سی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز سے متعلق نو نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

ای سی سی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیش کی گئی تجویز بھی منظور کرلی، جس کے تحت پاکستان ایگریکلچر اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے گندم کے ذخائر تمام مستحق اداروں کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد درآمدی گندم کے تناسب سے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ تجویز پاسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارشات کی بنیاد پر پیش کی گئی تھی اور اس کا مقصد درآمدی گندم کے ذخائر کو بروقت استعمال کرنا ہے۔

کمیٹی نے پٹرولیم ڈویژن کی ایک تجویز بھی منظور کی، جس کے تحت کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کے ذریعے غیر ملکی سپلائرز کے اکاؤنٹ پر پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے توانائی کے تحفظ کے اہم شعبوں کو مضبوط بنانا ہے، جن میں مقامی پیداوار کا فروغ، اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی ترقی اور کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات میں توسیع شامل ہیں، تاکہ پٹرولیم کی ایک مضبوط اور پائیدار سپلائی چین کو یقینی بنایا جاسکے۔

ای سی سی نے پاکستان اور عمان کی حکومتوں کے درمیان طے پانے والے بین الحکومتی معاہدے (IGA) کے تحت سیل پرچیز ایگریمنٹ (SPA) کی بھی منظوری دی۔ اس معاہدے کا مقصد توانائی کے شعبے میں او کیو ٹریڈنگ اور پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔

کمیٹی نے روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو تعمیر کے لیے یونین کے ساتھ مشاورت سے تصفیے کے لیے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کی بھی منظوری دی۔

ای سی سی نے پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ (PIAIL) اور نیشنل بینک آف پاکستان (NBP) کے درمیان طے پانے والے ٹرم شیٹ کی بنیاد پر 153.855 ملین امریکی ڈالر، پاکستانی روپے کے مساوی رقم کی حکومت پاکستان کی ضمانت کی بھی منظوری دی۔

کمیٹی نے واٹر ریسورسز ڈویژن کی جانب سے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم (K-IV منصوبہ) کے لیے 7,797.160 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کرلی۔ یہ رقم حکومت سندھ کی جانب سے صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ کے ذریعے فراہم کی گئی تھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں