سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بنانا ناگزیر ہے، جن صوبوں میں نئے صوبوں کے قیام کی قراردادیں موجود ہیں وہاں عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے نئے صوبے بنانے چاہئیں، نئے صوبے بننے سے ملک نہیں ٹوٹے گا بلکہ انتظامی امور چلانا آسان ہوں گے۔
لاہور پریس کلب میں ’’نئے صوبوں کا قیام، ضرورت یا سیاسی دباؤ؟‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی درانی نے کہا کہ اگر نئے صوبے بننے سے رائلٹی اور دیگر وسائل ملنے کے نتیجے میں لوگوں کی بھوک ختم ہوتی ہے تو عوام کو نئے صوبے ملنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے بنانے کا جواز کیا ہے، اس پر بات ہونی چاہیے۔ لوکل نظام کو بااختیار بنانے کی بات کی جاتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اسے بااختیار کرے گا کون؟ پاکستان کے آئین میں بلدیاتی حکومتوں کو وہ تحفظ حاصل نہیں جو ہونا چاہیے۔
محمد علی درانی نے کہا کہ دنیا کا کوئی ایسا ملک بتا دیں جہاں حکومت ہو لیکن بلدیاتی نظام نہ ہو، اسی طرح کوئی ایسا ملک بھی نہیں جہاں جمہوریت ہو اور بلدیاتی نظام موجود نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام اس طرح نہیں چل سکتا، نئے انتظامی یونٹس بنانے پڑیں گے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ 18ویں ترمیم منظور ہو رہی تھی تو وہ پوری پارلیمنٹ میں اس کے مخالف تھے۔ انہوں نے کہا کہ آمریت کے دور میں بھی ملک میں بہت ترقی ہوئی ہے، اس لیے محض سیاسی نظام کو جمہوریت قرار دینا کافی نہیں بلکہ حکمرانی اور عوامی مسائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج نوجوان کہتا ہے کہ اسے اقتدار نہیں چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ آج تک کون سا الیکشن ایسا ہوا جس میں ہائبرڈ نظام کامیاب نہ ہوا ہو۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی ایسا سیاست دان ہے جس نے چوری کا اقتدار لینے سے انکار کیا ہو۔
محمد علی درانی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں نئے صوبے نہیں بنانا چاہتیں اور انکار کو سازش کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا قوم نے ان دو خاندانوں کے بچوں کو پالنے کے لیے قربانیاں دی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ جن جن صوبوں میں نئے صوبوں کے قیام کی قراردادیں موجود ہیں، وہاں صوبے بننے چاہئیں۔ نئے صوبے بننے سے کچھ نہیں ٹوٹے گا، تاہم صوبوں کے قیام کے ساتھ انتظامی اور سیاسی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔
صدر کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کاظم خان نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی آبادی کئی ممالک سے زیادہ ہے، اس لیے انتظامی یونٹس کو چھوٹا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 55 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، کروڑوں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ایسے حالات میں انتظامی ڈھانچے کو عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنانا ضروری ہے۔
کاظم خان نے کہا کہ انتظامی یونٹس چھوٹے ہوں تو انہیں چلانا اور ان کی نگرانی کرنا آسان ہوگا۔ نئے صوبے بننے کی صورت میں ممکن ہے کہ صحت اور تعلیم کی سہولیات عوام تک پہنچانا بھی آسان ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبے دو بڑی سیاسی جماعتیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی، تسلیم نہیں کریں گی۔ پنجاب کے جنوبی حصے میں صوبے کے مطالبے کے تحت سیکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا تھا، تاہم اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیا گیا۔









