عمران علاج کیس، نظرثانی درخواست جلد سننے کے لیے حکومتی استدعا مسترد

12

بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقل کرنے کے 18 اگست کے سپریم کورٹ کے حکم کیخلاف نظرثانی درخواست پر جلد سماعت کی وفاقی حکومت کی استدعا مسترد کردی گئی۔

رجسٹرار سپریم کورٹ نے چیف کمشنر کی نظرثانی درخواست پر نمبر لگاتے ہوئے نوٹ لکھا کہ نظرثانی درخواست پر سماعت اپنی باری آنے پر ہوگی ۔

حکومت کی جانب سے نظرثانی کی جلد سماعت کیلیے متفرق درخواست دائر کی گئی تھی۔ مزید برآں سپریم کورٹ میں بیرسٹر گوہر اور لطیف کھوسہ کی رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات ہوئی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا ہمیں بتایا گیاآج ہی نوٹ پٹ کردیا جائے گا، رجسٹرار نے مقدمہ مقرر کرنے کیلئے چیف جسٹس کو نوٹ لکھنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے، ویڈیو لنک کے ذریعے ججز کیسز سنتے رہے ہیں۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کرنے آئے تھے، وہ مصروف تھے ملاقات نہیں ہو پائی، رجسٹرار نے بتایا ایک جج اسلام آباد رجسٹری میں دستیاب نہیں ،آن لائن بھی بنچ کی تشکیل ہوسکتی ہے ،بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں چاہتے، انہوں نے ایک منٹ بھی ہسپتال نہیں رہنا صرف ٹیسٹ کروانے ہیں۔

ڈیل کرنا ہوتی تو تین سال قید نہ کاٹتے، امید ہے سپریم کورٹ کیس جلد سماعت کیلئے مقرر کرے گی، میڈیکل بورڈ میں بھی وہ افراد شامل نہیں کیے گئے جو شامل ہونے چاہئیں تھے ، جنہوں نے بھی توہین عدالت کی انہیں سزا دی جائے۔

ان کا کہنا تھا ابھی سپریم کورٹ کا حکم نامہ قابل عمل ہے، آپ انہیں ہسپتال منتقل کر سکتے ہیں، خدارا بانی، اہلیہ کی صحت کو سنجیدہ لیا جائے۔سہیل آفریدی نے ان کی صحت سے متعلق جو بیان دیا وہ درست ہے، جس نے بھی روکا، سہیل آفریدی نے ان سے متعلق بات کی ہے، سہیل آفریدی کے ایک جملے کو لے کر اصل مدعا سے ہٹا جا رہا ہے۔

محسن نقوی سے ملاقاتوں کے سوال پر انہوں نے کہاکہ میری گاہے بگاہے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں، تفصیل نہیں بتا سکتا۔لطیف کھوسہ کا کہناتھا کہ رات 12 بجے بھی سپریم کورٹ کھولی گئی تھی،رجسٹرار نے کہا ایک جج لاہور ہیں ویڈیو لنک پر بھی سماعت ہوسکتی ہے، ایک دن کیلئے جج اسلام آباد بھی آسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں