سہیل آفریدی کی حمایت کے باوجود بیرسٹرگوہر نے ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ کی منظوری دینے سے انکار کردیا تھا

26

اگرچہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آئینی عدالت کو بتایا ہے کہ مجوزہ ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ کبھی تشکیل ہی نہیں دی گئی، تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ اس فورس کے قیام کیلئے سرگرم انداز میں کوشش کرنے والوں میں شامل تھے۔

تاہم، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے مجوزہ تنظیم کی منظوری دی اور نہ ہی اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اجازت دی، جس کے باعث یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔

اس اقدام کو پی ٹی آئی کی قیادت کے ایک حلقے، جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی شامل تھے، کی بھرپور حمایت حاصل تھی، لیکن بالآخر پارٹی چیئرمین کی دوٹوک مخالفت کے بعد اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا نہ جا سکا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، اس فورس کے قیام کیلئے وزیراعلیٰ کے پی پُرعزم تھے اور انہوں نے کھل کر اعلان بھی کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی مہم کے سلسلے میں رضاکاروں کو منظم کیا جائے گا، ان کی رجسٹریشن کی جائے گی اور ان سے حلف لیا جائے گا۔ تاہم، یہ تجویز کبھی بھی باضابطہ طور پر باضابطہ تنظیم کی شکل اختیار نہ کر سکی کیونکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اسے منظوری دینے سے واضح طور پر انکار کر دیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ اس نوعیت کی فورس کا قیام غیر آئینی اور غیر قانونی ہوگا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے پارٹی قیادت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نوعیت کی کسی ’’فورس‘‘ کو باضابطہ طور پر تشکیل دیا گیا تو اس سے پی ٹی آئی کو سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور پارٹی پر عسکریت پسندی جیسے الزامات بھی عائد ہو سکتے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت دوبارہ اہمیت اختیار کر گیا جب وزیراعلیٰ نے آئینی عدالت کو بتایا کہ ’’آئی کے ریلیز فورس‘‘ کبھی تشکیل ہی نہیں دی گئی۔ اگرچہ یہ بیان تکنیکی طور پر درست ہے، تاہم پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فورس صرف ایک مجوزہ منصوبے کی حد تک محدود رہی کیونکہ وزیراعلیٰ کے اصرار کے باوجود پارٹی چیئرمین نے اس منصوبے کو منظور نہیں کیا۔

یہ تنازع پہلی مرتبہ چند ماہ قبل اس وقت سامنے آیا تھا جب وزیراعلیٰ نے حامیوں کو متحرک کرنے کیلئے خصوصی ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس تجویز کے تحت ایک منظم تنظیم قائم ہونا تھی، جس کے رجسٹرڈ ارکان مہم میں حصہ لینے سے قبل باقاعدہ حلف اٹھاتے۔ تاہم، پارٹی کے اندر سے شدید اعتراضات سامنے آنے کے بعد اس خیال کو ترک کر دیا گیا۔

اس کے بجائے پی ٹی آئی نے اس کی جگہ ایک وسیع تر سیاسی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا، جو تمام حامیوں کیلئے کھلی ہوگی، جبکہ باضابطہ رکنیت، حلف برداری اور فورس جیسی کسی بھی تنظیمی ساخت کے تصور کو ختم کر دیا گیا۔ نظرثانی شدہ حکمت عملی جان بوجھ کر اس انداز میں ترتیب دی گئی تاکہ وہ آئینی اور جمہوری حدود کے اندر رہے اور اس تاثر سے بھی گریز کیا جا سکے کہ پارٹی کسی متوازی تنظیم کی تشکیل کر رہی ہے۔

پارٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ آئندہ کسی بھی احتجاجی یا عوامی تحریک کے آغاز اور اس کے وقت کا فیصلہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نہیں کریں گے، بلکہ ایسے فیصلے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے۔

پی ٹی آئی کے اندر ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ کے منصوبے کو ترک کیے جانے کو وسیع پیمانے پر اس بات کے طور پر دیکھا گیا کہ پارٹی کی معتدل قیادت کو ان سخت گیر عناصر پر برتری حاصل ہوئی جو زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے حامی تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں