جبری برطرفیوں، میڈیا دفاتر کی بندش اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف بلوچستان بھر میں صحافیوں کا یومِ سیاہ

37

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی اپیل پر بلوچستان بھر میں منگل کو یومِ سیاہ منایا گیا، جس کا مقصد 3 نومبر 2007ء کی ایمرجنسی کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں، بلوچستان میں میڈیا بیورو دفاتر کی بندش اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی یا تاخیر کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔

اس موقع پر صوبے بھر کے پریس کلبوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے، جبکہ صحافیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر مظاہرے کیے اور میڈیا انڈسٹری کو درپیش بڑھتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کی۔

کوئٹہ میں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (BUJ) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جہاں سیاہ پرچم لہرایا گیا اور دھرنا دیا گیا۔ مظاہرے میں صحافیوں، وکلا، سول سوسائٹی کے نمائندوں، مزدور تنظیموں اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے ارکان نے شرکت کی۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور احمد رند، کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سینئر نائب صدر نور الٰہی بگٹی، سابق صدر شہزادہ ذوالفقار اور دیگر نمائندوں نے کہا کہ جبری برطرفیوں اور میڈیا اداروں کی بندش کے باعث ملک بھر میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تقریباً 10 نیوز چینلز نے اپنے بیورو دفاتر بند کردیے ہیں، جس کے نتیجے میں لگ بھگ 150 صحافی اور میڈیا ورکرز بے روزگار ہوگئے ہیں۔ مقررین نے اس صورت حال کو میڈیا ورکرز پر معاشی حملہ قرار دیتے ہوئے بند کیے گئے بیورو دفاتر دوبارہ کھولنے اور برطرف ملازمین کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

مقررین نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے مبینہ غلط استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے جارہے ہیں، انہیں گرفتار کیا جارہا ہے اور ہراساں کرکے آزادیٔ اظہار کو محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافی آزادیٔ اظہار کی غیر محدود آزادی کے حامی نہیں، تاہم آزاد آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے قوانین کے استعمال کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں پر آزادیٔ صحافت کے معاملے پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافتی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

مقررین نے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ پابندیوں پر مبنی قوانین کی منسوخی، برطرف میڈیا ورکرز کی بحالی، واجب الادا تنخواہوں کی ادائیگی اور بلوچستان میں بند میڈیا بیورو دفاتر کی دوبارہ بحالی تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

بلوچستان کے دیگر علاقوں ژوب، قلات، تربت، پسنی، بارکھان، خضدار، دالبندین، دکی، ہرنائی، ڈیرہ مراد جمالی، رکھنی اور سبی میں بھی اسی سلسلے میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جہاں پریس کلبوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں