حکومت بلوچستان ،متعلقہ سیکیورٹی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں،مرکزی انجمن تاجران

11

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ، حضرت علی اچکزئی، یاسین مینگل، عمران ترین، حاجی سعداللہ اچکزئی، حاجی ہاشم کاکڑ، محمد جان آغا درویش، عبدالخالق آغا، حاجی ظفر کاکڑ، غفار لانگو، نعمت ترین، نقیب کاکڑ، بسم اللہ ترین، کلیم کمالزئی، اللہ داد اچکزئی، نعمت آغا، حاجی صالح نورزئی اور دیگر کابینہ اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال، قومی شاہراہوں پر دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں پر حملوں، مال بردار گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے اور مسافروں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت بلوچستان اور متعلقہ سیکیورٹی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔

صوبے میں عملاً حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے جبکہ قومی شاہراہیں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ قومی شاہراہوں پر مسلسل بدامنی کے باعث پرچون گڈز ٹرانسپورٹرز کی جاری ہڑتال نے بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء کی ترسیل کو شدید متاثر کر دیا ہے۔

آٹا، چینی، گھی، دالیں، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، جس کے باعث کئی اضلاع میں قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں بلوچستان کو اشیائے ضروریہ کی شدید قلت، مہنگائی اور تجارتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کا براہِ راست نقصان عام شہریوں کو اٹھانا ہوگا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ روز مستونگ کے مقام پر ایک مسافر کوچ پر فائرنگ کی گئی، جبکہ آج نوشکی کے علاقے پدگ میں دہشت گردوں نے دس سے زائد مال بردار ٹرکوں اور ایل پی جی باؤزرز کو نذرِ آتش کر دیا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ کئی ماہ سے بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور عام شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ہر سانحے کے بعد حکومت کی جانب سے صرف رسمی مذمتی بیانات، بلند بانگ دعوے اور زبانی یقین دہانیاں سامنے آتی ہیں، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف کوئی مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی دکھائی نہیں دیتی۔بیان میں کہا گیا کہ کوئٹہ شہر کی معیشت کا بڑا انحصار بلوچستان کے دیگر اضلاع سے آنے والی تجارتی سرگرمیوں پر ہے۔ پرچون گڈز ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث سامان کی ترسیل رک چکی ہے، جس سے کوئٹہ کے تھوک اور پرچون تاجروں کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔

تاجروں کے آرڈر منسوخ ہو رہے ہیں، کروڑوں روپے کا سرمایہ منجمد ہو چکا ہے، کاروباری سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں اور ہزاروں تاجر، مزدور اور ان کے خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ دوسری جانب جو مال بردار گاڑیاں شاہراہوں پر روانہ ہوتی ہیں، انہیں یا تو نذرِ آتش کر دیا جاتا ہے یا ان سے لاکھوں روپے بھتہ وصول کیا جاتا ہے، جس کا تمام تر مالی بوجھ آخرکار تاجروں اور ٹرانسپورٹروں پر ہوتا ہیں ۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پورے بلوچستان میں پولیس، لیویز، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی درجنوں چیک پوسٹیں قائم ہیں، لیکن انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ انہی چیک پوسٹوں کے چند سو میٹر یا ایک دو کلومیٹر کے فاصلے پر دہشت گرد کھلے عام گاڑیاں جلاتے ہیں، مسافروں کو روکتے ہیں، تاجروں کا سامان لوٹتے ہیں اور بھتہ وصول کرتے ہیں۔

اگر قومی شاہراہوں پر قائم یہ چیک پوسٹیں عوام، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں تو ان کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ بدقسمتی سے انہی چیک پوسٹوں پر زیادہ تر شریف شہریوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو بلاوجہ روک کر تنگ کیا جاتا ہے، جبکہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد باآسانی کارروائیاں کرکے فرار ہو جاتے ہیں۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے حکومت بلوچستان، وفاقی حکومت، کور کمانڈر بلوچستان، آئی جی پولیس، ایف سی، لیویز اور دیگر متعلقہ سیکیورٹی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ قومی شاہراہوں پر فوری طور پر ریاستی رٹ بحال کی جائے، تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں