افغان مہاجرین کے انخلا میں کام کرنے والے 118 گاڑی مالکان معاوضے سے محروم

15

افغان مہاجرین کے انخلا میں کام کرنے والے 118 گاڑی مالکان معاوضے سے محروم افغان مہاجرین کے انخلا کے دوران ضلعی انتظامیہ کے لیے خدمات انجام دینے والے 118 گاڑی مالکان تاحال اپنے معاوضے سے محروم ہیں۔

گاڑی مالکان کے مطابق ہر گاڑی کے لاکھوں روپے ضلعی انتظامیہ کے ذمے واجب الادا ہیں، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی گئی، جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق افغان مہاجر کیمپ گردی جنگل، چاگئے اور پوستی سے افغان مہاجرین کے انخلا کے دوران ضلعی انتظامیہ کے لیے گاڑیاں فراہم کرنے والے گاڑی مالکان عطاء اللہ گمشادزئی، وسیم نوتیزئی، وکیل احمد، عبد الظاہر اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال افغان مہاجرین کے انخلا کے دوران ضلع بھر سے مہاجرین کو گاڑیوں کے ذریعے افغانستان کی سرحد تک پہنچایا گیا۔گاڑی مالکان کے مطابق اس دوران گاڑیوں کے فیول، ڈرائیورز کے اخراجات اور دیگر تمام اخراجات انہوں نے اپنی جیب سے ادا کیے اور بعض گاڑی مالکان نے اس مقصد کے لیے قرض بھی لیا، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود انہیں واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے ذمے ہر گاڑی مالک کے لاکھوں روپے واجب الادا ہیں۔ واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث گاڑی مالکان نہ صرف شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں بلکہ ڈرائیورز اور فیول فراہم کرنے والوں کے قرضے بھی ادا نہیں کر پا رہے۔گاڑی مالکان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے واجبات کے حصول کے لیے آئے روز ڈپٹی کمشنر آفس کے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں، تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انہیں ہر بار یہی جواب دیا جاتا ہے کہ ’’اوپر سے ابھی تک رقم نہیں آئی، رقم موصول ہونے کے بعد واجبات ادا کر دیے جائیں گے۔

گاڑی مالکان نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کے پاس افغان مہاجرین کے انخلا کے لیے گاڑیوں کے اخراجات ادا کرنے کے لیے رقم موجود نہیں تھی تو انہیں اس عمل میں شامل کرکے مقروض کیوں کیا گیا؟انہوں نے کہا کہ اب ان کا صبر جواب دے چکا ہے اور وہ شدید مالی پریشانی سے دوچار ہیں۔

گاڑی مالکان نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ افغان مہاجرین کے انخلا کے دوران گاڑیوں کے مالکان کے واجب الادا تمام بقایاجات فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو جاری کیے جائیں تاکہ انہیں ان کے معاوضے کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔گاڑی مالکان نے خبردار کیا کہ اگر ان کے واجبات کی فوری ادائیگی نہ کی گئی تو وہ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری بلوچستان حکومت پر عائد ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت 118 گاڑی مالکان کے واجبات ضلعی انتظامیہ کے ذمے ہیں، جبکہ گاڑی مالکان خود ڈرائیورز اور فیول فراہم کرنے والوں کے قرض دار بن چکے ہیں اور اپنے ہی پیسوں کے حصول کے لیے پریشان ہیں، جو ان کے بقول سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں