سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ ہائبرڈ نظام ناکام ہوا ہے تو انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل کی باتیں ہورہی ہیں، بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں کو قومی وحدتوں کی تقسیم قبول نہیں،جب تک عوام کے ووٹ کے ذریعے احتساب اور انتخاب نہیں ہوگا حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
ماضی میں بھی پارٹیاں بنائی جاتی رہی ہیں صوبے کے لوگ اسی طرح منتشر رہے اور پارٹیاں ٹھیکیداری، نالیوں اور ٹرانسفارمر کی سیاست کرتی رہیں تو آگے بھی پارٹیاں بنیں گی، سوات میں بیس لاکھ لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا مگر وہاں آج تک امن نہیں آسکا، اب منصوبہ ہے کہ بلوچستان میں لوگوں کو نقل مکانی کراکے انسانی المیہ اور بحران پیدا کیا جائے،
یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت ملکی نظام میں پہلے بھی تبدیلیاں لائی جاتی رہی ہیں۔
اب جب ہائبرڈ نظام ناکام ہوا ہے تو انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل کی باتیں ہورہی ہیں، پاکستان کثیر الاقومی مملکت ہے ہم اپنی سرزمین پر صدیوں سے آباد ہیں، ہمارا تشخص، شناخت اور ثقافت ہے اس کا دفاع کریں گے، وفاقی وزیر داخلہ سیاسی عمل کے نہیں بلکہ رشتہ داری کی پیدوار ہیں ان کو کہا گیا کہ وہ صوبوں کی تقسیم کے بحث کو چھڑیں،بلوچ پشتون اور سندھی صوبوں کی تقسیم کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے بلکہ اس سے ملک میں مزید بحران پیدا ہوں گے، اپنے قومی وجود اور شناخت کو کسی صورت ختم نہیں ہونے دیں گے۔
جب تک عوام کے ووٹ کے ذریعے احتساب اور انتخاب نہیں ہوگا حالات بہتر نہیں ہوں گے۔اب نئی سیاسی جماعت بننے کے حوالے سے باتیں ہورہی ہیں اور یہ حیرانی کی بات نہیں اس سے پہلے بھی پارٹیاں بنائی جاتی رہی ہیں اگر صوبے کے لوگ اسی طرح منتشر رہے اور پارٹیاں ٹھیکیداری، نالیوں اور ٹرانسفارمر کی سیاست کرتی رہیں، آگے بھی پارٹیاں بنیں گی۔
سرزمین کے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر قربان کریں،انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ عوام کے منتخب کردہ نہیں بلکہ مقامی ہوٹل پراجیکٹ کے ذریعے مسلط کیے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ جب لندن میں چارٹر آف ڈیموکریسی طے پایا تو اس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ سیاسی پارٹیاں سہولت کار کا کردار ادا نہیں کریں گی 1973 کے آئین کو اس کی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا لیکن جب آٹھارویں ترمیم کے تحت ملک کے لوگوں کا فیصلہ ہورہا تھا۔
اس وقت ایک ٹینس کی کھلاڑی اور ایک کرکٹر کی شادی کو لے کر میڈیا پر لوگوں کی توجہ ہٹائی جارہی تھی،این ایف سی ایوارڈ کے تحت نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے بحیثیت وزیراعلیٰ کوشش کی کہ بلوچستان کو اس کا حق ملے، این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ ساتھ صوبوں کے وسائل کو بھی لوٹا جارہا ہے، اس کیلئے قومی اکائیوں کو توڑ کرعوام اور پارلیمنٹ کے آئینی اختیار کو ختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے سیاسی جماعتیں بھی سہولت کار کا کردار ادا کررہی ہیں،
پشتون قومی جرگہ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے خیر سگالی کا پیغام بھی بھیجا اور دعا گو بھی ہیں کہ یہ پشتون قوم کے مفاد میں ہو، اس سے قبل زیادت دھرنے میں بھی میں نے جرگہ بلانے کا اعلان کیا تھا تاہم جب پشتون قومی جرگہ بلایا گیا تو میں نہیں چاہتا تھا کہ ایک نئی بحث چھڑ جائے اس لیے پیچھے ہٹ گیا تاکہ پشتون قومی جرگہ کا کوئی نتیجے نکلے،
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سوات میں بھی بیس لاکھ لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا مگر وہاں آج تک امن نہیں آسکا، اب منصوبہ ہے کہ بلوچستان میں لوگوں کو نقل مکانی کراکے انسانی المیہ اور بحران پیدا کیا جائے تاکہ ان کی توجہ قومی اختیار اور حقوق سے ہٹ جائے اوروہ اپنے قومی حقوق سے دستبردار ہوں،
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر پر پہلے بھی کئی مرتبہ حملے کرائے گئے ہمارا گناہ یہ ہے کہ ہم اپنی قوموں کی نمائندگی کرتے اور اپنی قوموں اور قبائل کے سفید ریش ہیں،ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اس وقت پارلیمنٹ میں ہے اور قائد حزب اختلاف بھی ان کا ہے،
قائد حزب اختلاف حقوق انسانی کمیشن کے ذریعے جیل کا دورہ کریں یا پارلیمان کی انسانی حقوق کی کمیٹیاں جنہیں اختیار ہے ان کے ساتھ جیل کا دورہ کرکے رپورٹ مرتب اور عمران خان سے ملاقات کریں۔









