پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں وسطی پشتونخوا، سابقہ فاٹا اور پشتون۔بلوچ مشترکہ صوبے کے طلبہ کے لیے مختص میڈیکل نشستوں میں کمی کے حالیہ فیصلے پر شدید تشویش، افسوس اور سخت احتجاج کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام تعلیم دشمن پالیسیوں کا واضح مظہر ہے اور پسماندہ اور محروم علاقوں کے نوجوانوں کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔
اس فیصلے سے نہ صرف ہزاروں باصلاحیت طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ یہ اقدام ان علاقوں میں پہلے سے موجود تعلیمی محرومیوں کو مزید بڑھانے کا باعث بھی بنے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ملی شہید سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے ان نشستوں کی بحالی اور اضافے کے لیے ہر فورم پر بھرپور آواز اٹھائی تھی۔
ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی مسلسل جدوجہد، سیاسی بصیرت اور کاوشوں کی بدولت یہ نشستیں بحال ہوئیں اور ان پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو اعلی طبی تعلیم کے حصول کا موقع ملا۔ تاہم بعد میں آنے والی حکومتوں نے اس اہم فیصلے کو برقرار رکھنے کے بجائے ان نشستوں میں بتدریج کمی کر دی، جو کہ تعلیم اور علم دشمن پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں ان متاثرہ طلبہ کے ایک وفد نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ سے ملاقات کی۔ وفد نے انہیں اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے درخواست کی کہ وہ اس معاملے کو متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائیں اور ان نشستوں کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس اہم معاملے کو قومی اسمبلی سمیت ہر متعلقہ فورم پر بھرپور انداز میں اٹھائیں گے اور طلبہ کے جائز تعلیمی حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سال 2018 میں ملی شہید سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی ذاتی دلچسپی اور کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) اور دیگر متعلقہ اداروں نے وسطی پشتونخوا، سابقہ فاٹا اور بلوچستان (پشتون۔بلوچ دو قومی صوبہ) کے طلبہ و طالبات کے لیے مجموعی طور پر 333 میڈیکل نشستیں مختص کی تھیں۔ اس موقع پر یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ پانچ سال بعد ان نشستوں کی تعداد میں مزید اضافہ کر کے اسے 666 تک بڑھایا جائے گا تاکہ ان پسماندہ اور محروم علاقوں کے نوجوانوں کو اعلی تعلیم کے بہتر اور مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں اور وہ بھی ملک کے دیگر علاقوں کے طلبہ کی طرح ترقی کے مواقع حاصل کر سکیں۔
پریس ریلیز میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت نے اپنے سابقہ وعدوں پر عمل کرنے کے بجائے ان نشستوں کو مزید کم کرتے ہوئے 333 سے گھٹا کر صرف 121 تک محدود کر دیا ہے، جو کہ وسطی پشتونخوا، سابقہ فاٹا اور پشتون۔بلوچ مشترکہ صوبے کے طلبہ کے ساتھ ایک سنگین ناانصافی ہے۔ اس فیصلے سے ان علاقوں کے نوجوانوں میں شدید مایوسی، بے چینی اور احساسِ محرومی پیدا ہوا ہے۔
اس اقدام سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ حکومت پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے بجائے تعلیمی مواقع کو محدود کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وسطی پشتونخوا، سابقہ فاٹا اور پشتون۔بلوچ مشترکہ صوبے کے طلبہ پہلے ہی تعلیمی سہولیات کی شدید کمی، پسماندگی، معاشی مسائل اور دیگر بنیادی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان علاقوں میں تعلیمی اداروں، اساتذہ اور جدید سہولیات کی کمی پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ایسے حالات میں میڈیکل نشستوں میں کمی کرنا دراصل ان نوجوانوں کے روشن مستقبل کے راستے میں مزید رکاوٹیں کھڑی کرنے کے مترادف ہے اور اس سے ان علاقوں میں تعلیم کے فروغ کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔ پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہمیشہ سے وسطی پشتونخوا، سابقہ فاٹا اور پشتون۔بلوچ مشترکہ صوبے کے طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری، آئینی اور سیاسی فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہی ہے۔
پارٹی کا مقف واضح ہے کہ تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی بھی صورت میں پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ پارٹی آئندہ بھی اس مسئلے پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور طلبہ کے جائز حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن سیاسی اور جمہوری راستہ اختیار کرے گی۔ بیان میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر فوری طور پر میڈیکل نشستوں کو بحال نہ کیا گیا اور سابقہ وعدے کے مطابق ان کی تعداد 666 تک نہ بڑھائی گئی تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس فیصلے کے خلاف بھرپور جمہوری اور عوامی احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
پارٹی اس مسئلے کو پارلیمنٹ، عدالتوں اور دیگر متعلقہ فورمز پر بھی اٹھائے گی تاکہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا ازالہ کیا جا سکے۔ آخر میں بیان میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وسطی پشتونخوا، سابقہ فاٹا اور پشتون۔بلوچ مشترکہ صوبے کے طلبہ کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا فوری ازالہ کیا جائے۔ ان کے لیے مختص تمام میڈیکل نشستوں کو بحال کیا جائے اور سابقہ وعدے کے مطابق ان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ان علاقوں کے نوجوانوں کو تعلیم اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں اور وہ بھی ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں









