ضلع پنجگور میں آج مبینہ سیکورٹی خدشات کے پیشِ نظر مختلف شاہراہوں، مرکزی بازار اور چھوٹے بڑے مارکیٹوں کی بندش کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ضلع بھر کی سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
تاحال کسی سرکاری یا غیر سرکاری ذریعے کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پنجگور کی مختلف شاہراہیں اور بازار کس مخصوص وجہ سے بند کیے گئے ہیں۔
تاہم بازار جانے والے بعض دکانداروں کے مطابق انہیں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بازار جانے سے روک دیا گیا، جس کے باعث آج پنجگور کے مرکزی چتکان بازار سمیت مختلف علاقوں کے چھوٹے بڑے بازار بھی بند ہیں۔شاہراہوں کی بندش اور سیکیورٹی اقدامات کے باعث ضلع بھر میں آمدورفت کا سلسلہ بھی شدید متاثر ہوا ہے اور سڑکوں پر معمول کے مقابلے میں ٹریفک انتہائی کم دکھائی دے رہی ہے۔واضح رہے کہ اس صورتحال کی اصل وجہ کے حوالے سے تاحال کسی متعلقہ سرکاری ادارے کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔دریں اثناء نوشکی بازار کو جانے والی داخلی اور خارجی راستے بند سیکورٹی فورسز تعینات، علاقے میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کا سماں، شہری اپنے گھروں میں محدوداور محصور ہوکر رہ گئے۔ جبکہ دوسری جانب سیکورٹی فورسز مختلف جگہوں پر تعینات ہے۔اطلاعات کے مطابق نوشکی شہر میں کرفیوں نافذ بازار سمیت شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکورٹی فورسز کے دستے تعینات، انٹرنیٹ سروس معطل ہونے سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا غیر اعلانیہ کرفیوں کے باعث ملازمین دفاتر جبکہ اساتذہ اور طلبا سکول نہیں پہنچ سکے لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں فورسز کے اہلکاروں کو شہر کی سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔









