دیت کی رقم کا تعین کس وقت ہوگا؟ سپریم کورٹ اصول طے کرنے کے لیے پرعزم

28

دیت کی رقم کیلیے 30 ہزار، 630 گرام چاندی کے ریٹ کا تعین کب سے ہوگا؟ کیا تعین قتل کے وقوعے کے وقت سے ہوگا؟ کیا ملزم کی گرفتاری سے تعین ہوگا؟یا ٹرائل کورٹ کے فیصلے سے ہوگا؟سپریم کورٹ نے ان تینوں قانونی سوالات کا جائزہ لیکر اصول طے کرنے کی ٹھان لی۔

یہ معاملہ جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم کے ایک فوجداری کیس کی سماعت کے دوران پیش آیا۔2015 میں لاہور میں ملزم شاہد عرف مکھی نے تشدد کرکے اعجاز کو قتل کردیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے پھانسی کی سزا سنائی،ہائیکورٹ نے سزا موت کو10سال قید میں تبدیل کرکے مقتول کے ورثا کو دیت کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا،ہائیکورٹ نے قرار دیا تھا ملزم کا جان سے مارنے کی غرض سے قتل کرنا ثابت نہیں ہوتا،اب دیت کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا دیت کیلئے ریٹ کا تعین کب سے ہوگا؟ادائیگی اس ریٹ سے ہوگی جب وقوعہ ہوا تھا؟یا اس وقت سے جب ملزم گرفتار ہوا؟ یا اس وقت سے تعین ہوگا جب ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنایا؟میں نے ہائیکورٹ میں ایک فیصلے میں کہا تھا دیت اس وقت سے ہوگی جب ملزم کی گرفتاری ہوئی۔

اب نئے نوٹیفکیشن کے تحت دیت کی رقم 1 کروڑ، 93 لاکھ سے زائد مقررکی گئی ہے،مہنگائی کے سبب چاندی کا ریٹ بڑھ چکا، اس کیس میں تین بنیادی سوالات ہیں،اس کیس کے فیصلے کا اثر راضی ناموں کے مقدمات پر بھی پڑے گا۔

فرض کریں قتل2010 میں ہوا، ملزم کی گرفتاری 2015 میں ہوئی اور فیصلہ2020 میں آیا تو ایسے میں 2010 سے 2020 تک تو دیت کے ریٹ میں لاکھوں روپے کا فرق آچکا ہوگا۔مقتول کے والد نے کہا انکا ایک ہی بیٹا تھا جسے بے گناہ قتل کردیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں