قومی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا آئندہ مہم کے لیے بھرپور تعاون پر زور، 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کے تحفظ کا عزم

26

قومی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اجلاس آج منعقد ہوا، جس میں ملک میں انسدادِ پولیو کی جاری کوششوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ آئندہ ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں اور انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مہم 21 سے 27 ستمبر تک ملک کے 115 اضلاع میں منعقد ہوگی، جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے وزیرِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے قومی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس سے قبل انہوں نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر آئندہ ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح بھی کیا۔

وزیرِ منصوبہ بندی نے تمام چیف سیکریٹریز پر زور دیا کہ انسدادِ پولیو کو اولین قومی ترجیح کے طور پر برقرار رکھتے ہوئے ستمبر کی انسدادِ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی ہدایات بالکل واضح ہیں کہ پولیو وائرس کی منتقلی کا سلسلہ روک کر ہر بچے اور ہر خاندان کو محفوظ بنانا ہے،اس مقصد کے لیے قیادت کو عملی طور پر آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ آئندہ مہم کے دوران خود فیلڈ میں موجود رہیں، کمیونٹیز اور والدین سے براہِ راست رابطہ کریں اور ویکسین کی قبولیت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں،مشکل حالات کے باوجود ہمارے فرنٹ لائن ورکرز ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے گھر گھر جا رہے ہیں۔

ان کی ہمت، محنت اور عزم پاکستان کے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے اور پولیو سے پاک پاکستان کے قومی مقصد کے لیے ان کی بھرپور لگن کا ثبوت ہے۔وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، محترمہ عائشہ رضا فاروق نے انسدادِ پولیو پروگرام کی جانب سے جامع بریفنگ دی، جس میں ملک میں پولیو کی موجودہ صورتحال، وائرس کے پھیلاؤ میں کمی، درپیش اہم چیلنجز، وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے جاری اقدامات اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے پولیو کے خلاف نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اس فیصلہ کن مرحلے میں مسلسل توجہ اور اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہماری ترجیح ہے کہ کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے اور وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے بیماری کی مؤثر نگرانی، انسدادِ پولیو مہمات کے معیار میں بہتری اور کمیونٹی کی مؤثر شمولیت کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفی کمال نے چیف سیکریٹریز پر زور دیا کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کے مؤثر اور اعلیٰ معیار کے مطابق نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں، بالخصوص جنوبی خیبر پختونخوا (KP) کے وائرس کے بنیادی ذخائر اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں، تاکہ ہر اہل بچے تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ ہم جنوبی خیبر پختونخوا سمیت ان تمام علاقوں میں انسدادِ پولیو کی کوششیں مزید تیز کریں گے جہاں وائرس کی گردش برقرار ہے، تاکہ بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔قومی ٹاسک فورس کا یہ اعلیٰ سطحی اجلاس 2026 کی چوتھی انسدادِ پولیو مہم کے آغاز سے قبل منعقد ہوا، جو پیر سے شروع ہو رہی ہے۔ شراکت دار اداروں کے قریبی تعاون سے 2 لاکھ 73 ہزار سے زائد پولیو فرنٹ لائن ورکرز مہم کے دوران اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے اور گھر گھر جا کر 5 سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔

1994 سے اب تک پاکستان میں پولیو کے کیسز میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔ 1990 کی دہائی کے آغاز میں ہر سال تقریباً 20 ہزار پولیو کیسز رپورٹ ہوتے تھے، جو کم ہو کر 2025 میں صرف 31 کیسز رہ گئے۔ یہ بڑی کامیابی محفوظ اور مؤثر پولیو ویکسین کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، جو سال میں کئی مرتبہ بچوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر فراہم کی جاتی ہے۔2023-24 میں پولیو کیسز میں دوبارہ اضافے کے تناظر میں پاکستان نے انسدادِ پولیو کی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا۔

ان اقدامات میں بڑے پیمانے پر متعدد پولیو مہمات، اورل اور انجیکٹیبل ویکسین کی ہدفی مہمات، معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کو مضبوط بنانے کے لیے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کے ساتھ مشترکہ اقدامات، زیادہ خطرے والے علاقوں میں مربوط صحت کی خدمات اور کمیونٹی کے ساتھ مسلسل مؤثر رابطہ شامل ہیں۔ان مربوط اقدامات کے نتیجے میں 2024 کے 74 کیسز کے مقابلے میں 2025 میں پولیو کے کیسز میں 58 فیصد کمی آئی اور یہ تعداد 31 رہ گئی، جبکہ پولیو وائرس کی گردش میں بھی مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔

2026 میں اب تک پولیو کے چار کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں سے تین کیسز صرف جنوبی خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی سے متعلق رسائی کی مشکلات کے باعث جنوبی خیبر پختونخوا بدستور ایک چیلنجنگ علاقہ ہے۔جنوبی خیبر پختونخوا میں وائرس کی مسلسل موجودگی، جبکہ کراچی اور کوئٹہ بلاکس جیسے بنیادی ذخائر میں ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی مسلسل موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پولیو لاکھوں خاندانوں کے لیے اب بھی خطرہ ہے۔کوئی بھی بچہ اس وقت تک محفوظ نہیں ہوگا جب تک ہر بچے کو پولیو ویکسین نہیں مل جاتی اور وہ محفوظ نہیں ہو جاتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں