ایران کے ساتھ محدود پیمانے پر مذاکرات جاری ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

33

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ محدود پیمانے پر مذاکرات جاری ہیں اور فی الحا ہم معاملے کو جارحانہ انداز میں آگے نہیں بڑھا رہے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ ایکسوئس کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کےخلاف ایک نئی فوجی کارروائی کا حکم دینے کے بجائے ان پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے تیار ہیں جبکہ ایران ان خبروں کی مسلسل تردید کر رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ صرف ایک ہفتہ قبل بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حکم دینے کو تیار تھے اور انٹرویو کے دوران ایسی کسی نئی مہم جوئی کے حوالے سے دھمکی نہیں دی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بتایا کہ فی الحال ہم اس معاملے کو کم نمایاں کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ صرف محدود پیمانے پر مذاکرات کر رہے ہیں، ہم ایران کو صرف دیکھ رہے ہیں جہاں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور ان کے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران معاشی لحاظ سے بہت خراب حالت میں ہے اور اس کے پاس اپنی فوج کو تنخواہ دینے کے لیے بھی پیسہ نہیں ہے، امریکی بحری ناکا بندی نے ایرانی حکومت کے معاشی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل سے کچھ زیادہ رہنے کے باعث امریکی صارفین جنگ کے معاشی اثرات کو کسی حد تک کم محسوس کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں