ایرانی صدر اور ٹرمپ کی ملاقات کے امکانات تقریباً ختم، ایران کا امن تجاویز پر جواب کا مطالبہ

13

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے امکانات تقریباً ختم ہوگئے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرمپ کا رویہ سخت ہے اور وہ ایران کی حالیہ تجاویز پر یکطرفہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق پزشکیان کے امریکا سے روانہ ہونے سے قبل دونوں صدور کی ملاقات کے امکانات پہلے ہی انتہائی کم تھے، تاہم اب اسے تقریباً خارج از امکان قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض ممالک اب بھی کوشش کر رہے ہیں کہ اتوار کو پزشکیان کی وطن واپسی سے پہلے دونوں صدور کی ون آن ون ملاقات کرا دی جائے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے اور امن کا پیغام دینے کے لیے اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل ثالثوں کے ذریعے امریکا کو سات نکاتی تجاویز پیش کی تھیں۔ ایران نے بعد میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکی دباؤ میں کمی اور اپنی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم ہونے کی صورت میں سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش بھی کی۔

ایرانی حکام کے مطابق تہران ان تجاویز پر امریکا کے جواب کا منتظر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی مرحلے پر ٹرمپ اور پزشکیان کی ملاقات ہوئی تو اس کے لیے ایرانی صدر کو سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی اجازت اور ہدایات درکار ہوں گی۔

دوسری جانب صدر پزشکیان نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور اس نے جنگ شروع نہیں کی، تاہم اگر امریکا لڑائی جاری رکھتا ہے تو ایران پوری قوت سے جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ تہران عالمی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے اور جون میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر مذاکرات آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

پزشکیان نے امریکی صدر کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ ایران امریکی مڈٹرم انتخابات تک معاہدے کے لیے انتظار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران چاہتا ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی امریکا مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئے۔

ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر کہا کہ ایران عالمی قانونی فریم ورک سے باہر کوئی مطالبہ نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق اگر ایران کے جہازوں کو آبنائے میں نقل و حرکت کی اجازت نہ ہو تو تہران دوسرے ممالک کے جہازوں کے لیے یکطرفہ طور پر یہ حق تسلیم نہیں کرسکتا۔

پزشکیان نے ماضی کے مذاکرات کے دوران ہونے والے امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات کے فریم ورک میں بھی فریق ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرسکتے تو دوطرفہ مسائل کے مستقل حل کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں