ٹرمپ کا امریکا میں شرعی قانون کے نفاذ کی مخالفت کا اعلان، ملک میں ایک ہی قانونی نظام ہونا چاہیے

20

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکا میں شرعی قانون کے نفاذ کو روکنے کی حمایت کریں گے اور ملک میں ایک ہی قانونی نظام برقرار رہنا چاہیے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے یہ موقف ایک لائیو ریڈیو انٹرویو کے دوران قدامت پسند میزبان گلین بیک سے گفتگو میں اختیار کیا۔

صدر سے سوال کیا کہ کیا وہ امریکا میں شرعی قانون پر پابندی عائد کرنے کی حمایت کریں گے، جس پر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس کی حمایت کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں بعض مقامات پر شرعی قانون کی شکل میں متوازی نظام موجود ہے اور جہاں انہیں ایسا نظر آئے گا اسے ختم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں قانون کا ایک ہی نظام ہونا چاہیے۔

ٹرمپ نے اس معاملے کو صرف امریکا تک محدود نہیں رکھا بلکہ لندن اور پیرس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان شہروں کے بعض علاقوں میں اسلامی قانون ایک الگ طرزِ زندگی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ امریکا کو ایسے کسی متوازی قانونی نظام کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

ٹرمپ کا تازہ بیان امریکا میں مذہب، قانون اور تارکینِ وطن سے متعلق جاری سیاسی بحث کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ حالیہ امریکی سیاسی مباحث میں بعض ریپبلکن رہنماؤں اور قدامت پسند حلقوں کی جانب سے شرعی قانون کا موضوع بھی اٹھایا جاتا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں