کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں عید میلاد النبی ﷺمذہبی عقیدت و احترام، جوش و جذبے اور شایانِ شان انداز میں منائی گئی۔ اس سلسلے میں کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں خصوصی تقریبات، محافلِ میلاد، نعت خوانی، درود و سلام اور جلوسوں کا انعقاد کیا گیا۔عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر کوئٹہ شہر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اہم شاہراہوں، حساس مقامات، مساجد، امام بارگاہوں اور جلوسوں کے روٹس پر سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیے، جبکہ جلوسوں کی نگرانی کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے۔کوئٹہ میں عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں مختلف علاقوں سے بڑے جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں۔
سریاب روڈ، قمبرانی روڈ اور شہر کے دیگر علاقوں سے نکلنے والے جلوس مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے کوئٹہ کے مرکزی میزان چوک پہنچے، جہاں مرکزی اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔
سریاب روڈ سے نکالی جانے والی بڑی ریلی سے صاحبزادہ پیر محمد خالد سلطان القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے محبت، اخوت، برداشت، بھائی چارے، عدل و انصاف اور انسانیت کی خدمت کا درس دیا، جس پر عمل کرکے معاشرے میں امن، اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عید میلاد النبی ﷺ ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں اور معاشرے میں امن و محبت کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے ملک و قوم کی ترقی، استحکام، امن و سلامتی اور بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔دریں اثناء قمبرانی روڈ سے بھی عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی، جس میں بڑی تعداد میں عاشقانِ رسول ﷺ نے شرکت کی۔
ریلی کی قیادت علماء کرام اور مذہبی شخصیات نے کی۔ اس موقع پر شرکاء نے درود و سلام اور نعتیہ کلام پیش کیے جبکہ مختلف مقامات پر علماء کرام نے سیرت النبی ﷺ اور اسوہ حسنہ پر روشنی ڈالی۔قمبرانی روڈ کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مولانا احمد رضا قمبرانی نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی آمد پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔
آپ ﷺ نے جہالت کے اندھیروں کو ختم کرکے انسانیت کو علم، اخلاق، عدل، مساوات اور بھائی چارے کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگیوں میں سیرت النبی ﷺ کو عملی طور پر اپنائیں۔مرکزی میزان چوک پر پہنچنے والے جلوسوں میں شرکاء نے نعتِ رسول مقبول ﷺ، درود و سلام اور تکبیرات کے ذریعے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا۔
مرکزی اجتماع میں علماء و مشائخ نے حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ، اخلاق حسنہ، تعلیمات اور امتِ مسلمہ کے لیے آپ ﷺ کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔اس موقع پر مختلف علماء و خطباء نے اپنے خطابات میں کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت مسلمانوں کے لیے کامل نمونہ ہے اور موجودہ دور میں معاشرے کو درپیش مسائل کا حل بھی اسلامی تعلیمات اور اسوہ رسول ﷺ پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات کو ختم کرکے اتحاد، اخوت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر کوئٹہ شہر کو سبز پرچموں، جھنڈیوں، برقی قمقموں اور دیگر آرائشی اشیاء سے سجایا گیا تھا، جبکہ مختلف مساجد، مدارس اور مذہبی مقامات پر محافلِ میلاد اور خصوصی پروگرامز کا انعقاد بھی کیا گیا۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے اپنے گھروں، دکانوں اور کاروباری مراکز کو بھی خوبصورت انداز میں سجایا۔
دوسری جانب بلوچستان کے علاقے، سبی، نصیرآباد، جعفرآباد، خضدار، لسبیلہ، ڈیرہ مرادجمالی ، اوستہ محمد سیوی ، بخیتارآباد ، جٹ پٹ،گنداخہ ، باغئیل، بولان ڈھاڈر مچھ ، خاران اور دیگر علاقوں میں بھی عید میلاد النبی ﷺ مذہبی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ مختلف شہروں اور علاقوں میں جلوس، محافل میلاد، نعت خوانی اور سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے خصوصی تقریبات منعقد ہوئیں۔
اس موقع پر حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عید میلاد النبی ﷺ کے جلوسوں اور اجتماعات کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے۔ جلوسوں کے روٹس پر پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات رہے اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس نے بھی خصوصی اقدامات کیے۔عید میلاد النبی ﷺ کی تقریبات کے اختتام پر ملک کی سلامتی، خوشحالی، ترقی، امن و استحکام، بلوچستان میں پائیدار امن اور امت مسلمہ کی سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔









