تربت، سورج سوائے نیزے پر درجہ حرارت49 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کر پوری کردی

5

تربت شہر میں شدید گرمی اور طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث میڈیکل اسٹورز میں ادویات کے محفوظ ذخیرے اور معیار کے حوالے سے عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بیشتر ادویات کو مخصوص درجہ حرارت، عموماً 15 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ تربت میں ان دنوں دن کا درجہ حرارت 47 سے 49 ڈگری سینٹی گریڈ اور رات کے اوقات میں بھی 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

عوامی حلقوں کے مطابق شہر اور ضلع کے مختلف علاقوں میں قائم متعدد میڈیکل اسٹورز میں مناسب کولنگ سسٹم موجود نہیں ہے، جبکہ بجلی کی طویل بندش کے باعث ایئرکنڈیشنرز اور دیگر ٹھنڈک کے آلات بھی مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بیشتر میڈیکل اسٹورز نے ادویات کے تحفظ کے لیے جدید سولر سسٹمز یا بیک اپ کولنگ انتظامات بھی نہیں کیے، جس کے باعث حساس ادویات گرمی کی شدت سے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ غیر مناسب درجہ حرارت میں رکھی جانے والی ادویات اپنی افادیت کھو سکتی ہیں، جس سے مریضوں کو مطلوبہ طبی فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا اور صحت کے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ادویات کی خریداری کے وقت صارفین کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ دوا کن حالات میں محفوظ رکھی گئی ہے اور آیا وہ مقررہ معیار کے مطابق ذخیرہ کی گئی ہے یا نہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلع کیچ میں میڈیکل اسٹورز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ادویات کے ذخیرے، کولڈ چین اور درجہ حرارت کے حوالے سے نگرانی کا مؤثر نظام نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ معائنہ مہم چلائیں اور ان میڈیکل اسٹورز کے خلاف کارروائی کریں جو ادویات کے محفوظ ذخیرے کے مقررہ اصولوں پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔شہریوں نے محکمہ صحت بلوچستان، ڈرگ انسپکٹرز اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کیچ کے تمام میڈیکل اسٹورز کا ہنگامی بنیادوں پر معائنہ کیا جائے،

ادویات کے ذخیرے کے لیے مناسب کولنگ سسٹم اور سولر بیک اپ کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو معیاری اور مؤثر ادویات کی فراہمی کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کے موجودہ موسم میں ادویات کی حفاظت ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ بن چکا ہے جس پر فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں