بلوچستان کے حالات مخدوش اور شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، مولانا واسع

18

جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات روز بروز انتہائی تشویشناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں،

آئے روز درجنوں گاڑیوں کو یرغمال بنایا جا رہا ہے، قومی شاہراہوں پر سفر کرنا محال ہو چکا ہے، خواتین تک محفوظ نہیں رہیں، عوام خوف و ہراس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اگر حکومت حالات کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو اسے اقتدار کی کرسی سے چمٹے رہنے کا کوئی اخلاقی اور آئینی حق حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ کئی علاقوں میں سکیورٹی چوکیاں خالی کر دی گئی ہیں اور حکومتی رٹ سرے سے ختم ہوتی نظر آ رہی ہے، حکومت کے وژن اور پالیسی کا کسی کو علم نہیں، امن و امان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، کوئی شریف النفس شخص اپنے کاروبار، ملازمت یا روزگار کے لیے بلاخوف گھر سے نہیں نکل سکتا، کاروبار تباہ ہو چکے ہیں، عوام نان و نفقہ کے محتاج بنتے جا رہے ہیں، اوپر سے بارڈر بند کر دیا گیا ہے۔

جس سے زراعت، سرحدی تجارت، معدنیات سے وابستہ کاروبار اور ٹرانسپورٹ کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، تاجر شدید پریشانی کا شکار ہیں مگر حکومت کو عوام کی کوئی پروا نہیں، ایسے کسمپرسی کے حالات میں تاجر اپنی تجارت سمیٹنے پر مجبور ہیں اور عوام حیران و پریشان ہیں کہ آخر وہ اپنے مسائل لے کر کس کے پاس جائیں۔

انہوں نے مستونگ میں مسجد کو شیلنگ کا نوٹس جاری کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر یہ نوٹس واپس لیا جائے، مساجد کے تقدس اور عوام کے مذہبی جذبات سے کھیلنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ ایسے اقدامات ہرگز قابل قبول نہیں، حکومت فوری طور پر امن و امان کی بحالی،

شاہراہوں کے تحفظ، عوام کے جان و مال کی حفاظت، بارڈر کی بحالی، تاجروں، کسانوں اور عام شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اور مثر اقدامات کرے، بصورت دیگر عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں