بلوچستان میں صحافت پر قدغنیں ہیں، میڈیا وینٹی لیٹر پر ہے، سی پی این ای

27

: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای)کی اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس صدر کاظم خان کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خصوصی شرکت کی اور مدیران اخبارات و جرائد سے خطاب کیا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ذمہ دارانہ صحافت کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔ اخبارات عوامی رائے کی تشکیل اور مسائل کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اخبارات کو حقائق سامنے لانے اور احتساب کا آزادانہ موقع حاصل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسے ماحول کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں جس میں صحافی آزادانہ اور باوقار انداز میں کام کر سکیں۔

خیبر پختونخوا میں صحافت اور صحافیوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ خیبر پختونخوا کی شناخت کو مسائل تک محدود رکھنا درست نہیں۔ ہم ایک بدلتا، ترقی کرتا اور مضبوط خیبر پختونخوا چاہتے ہیں۔گورنر نے اخبارات کی معاشی پائیداری کے حوالے سے مثبت تجاویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اخبارات کو درپیش مسائل اور ان کے بقایاجات کی ادائیگیوں سے متعلق مسائل حل کیے جائیں گے۔

اجلاس میں میڈیا کو درپیش مسائل، آزادی صحافت کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور اخبارات کو اشتہارات کی ادائیگیوں میں غیر معمولی تاخیر سے پیدا ہونے والی بحرانی کیفیت پر تفصیلی غور کیا گیا۔سی پی این ای کے مرکزی صدر کاظم خان نے کہا کہ صحافت مزاحمت کی خوبصورت شکل کا نام ہے،

لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ اب مفاہمت کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ جبر کے نظام کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ سی پی این ای کو انسانی حقوق پر بھی بات کرنی چاہیے۔ صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ میڈیا ہائوسز سے صحافیوں کی جبری برطرفیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور ورکنگ جرنلسٹس کو انکے واجبات ہر ماہ با قاعدگی سے ادا کرنے چاہئیں۔ انہوں نے اجلاس کے شرکا کو وفاقی وزیر اطلاعات کے ٹوئٹ بابت آگاہ کیا اور ورکنگ جرنلسٹس کی مالی مشکلات کی بابت ایسے نہیں چلے گا

موقف کی بھر پور تائید کی۔بلوچستان کے نائب صدر انور ساجدی نے کہا کہ ملک بھر کے اخبارات کو مسائل کا سامنا ہے۔ بلوچستان میں صحافت پر قدغنیں ہیں، اظہار رائے پر پابندی ہے اور میڈیا وینٹی لیٹر پر ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ جہاں بجلی نہیں ہے،

وہاں میڈیا ڈیجیٹلائز ہے اور اشتہارات دیے جا رہے ہیں۔ مخصوص دائرے میں رہ کر رپورٹنگ کے باعث میڈیا اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے۔

سی پی این ای کے پی کمیٹی کے چیئرمین طاہر فاروق نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اشتہارات کے بقایاجات کی ادائیگیوں کے معاملے میں حالات مایوس کن تھے۔ سی پی این ای خیبر پختونخوا نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سخت جدوجہد اور ٹیم ورک کے نتیجے میں 800 ملین روپے کی رقم صوبائی کابینہ سے منظور کرائی، جس میں سے 400 ملین روپے کی پہلی قسط اخبارات کو وصول ہو گئی ہے۔

روزنامہ قائد پشاور کے چیف ایڈیٹر سردار نعیم اور روزنامہ عوام الناس کے چیف ایڈیٹر اشرف ڈار نے بقایاجات کی وصولی کو سی پی این ای کی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا۔ اجلاس میں نوجوان وکیل احسن مسعود ایڈووکیٹ کی خدمات اور کاوشوں کو سراہا گیا، جنہوں نے سی پی این ای کے واجبات کے کیس کی پیروی کی۔

اجلاس میں سی پی این ای کے وفات پانے والے اراکین علی نواز گیلانی، روزنامہ مہران حیدرآباد کے چیف ایڈیٹر فقیر منٹھار منگریو کے بڑے بھائی و دیگر کی مغفرت کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس میں سینئر نائب صدر ایاز خان، سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو، ڈپٹی سیکریٹری جنرل تنویر شوکت، فنانس سیکریٹری عارف بلوچ، انفارمیشن سیکریٹری منزہ سہام، نائب صدور شکیل ترابی، تنویر صدیقی، جوائنٹ سیکریٹریز یحیی سدوزئی، مقصود یوسفی، اراکین عبد الخالق علی، سید انتظار حسین زنجانی، وقاص طارق، محمود عالم خالد، شیر محمد کھاوڑ، شہزاد امین، اسلم میاں، حسن ناصر، عرفان اطہر، عبدالسمیع منگریو، سردار محمد سراج، فضل حق، مسعود خان، ممتاز صادق، عبدالسلام بھاٹ، ڈاکٹر زبیر، رافع نیازی سمیت ملک بھر سے مدیران نے شرکت کی۔ خیبر پختونخوا کے ایڈیٹرز نے مبصر کے طور پر شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں