Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/u198379639/domains/hayyan.com.pk/public_html/wp-content/themes/dailybalochistan/functions.php on line 343

بلوچستان میں لگی آگ کوانصاف حقوق وسائل روزگاراختیارات کی فراہمی سے بجھایاجاسکتاہے،مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

11

امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کے خلاف آنے والا عدالتی فیصلہ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں جس پر ہم شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں،بلوچستان میں لگی آگ کوانصاف حقوق وسائل روزگاراختیارات کی فراہمی سے بجھایاجاسکتاہے۔

انہوں نے کوئٹہ میں مختلف وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کی پہچان انصاف،غیرجانبداری اور آئین و قانون کی بالادستی ہوتی ہے مگر بلوچستان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔ایسے فیصلے جو عوامی حلقوں میں سوالات اور تحفظات کو جنم دیں ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ اگر سیاسی اور جمہوری آوازوں کو دبانے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اس کے نتیجے میں بے چینی اور مزید پیچیدہ سیاسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہیجس کی ذمہ داری متعلقہ پالیسی سازوں پر عائد ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کے خلاف نہیں بلکہ بلوچستان اورملک کے مستقبل کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے اقدامات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے حالات مزید خراب ہوں گے۔جماعت اسلامی ظلم،جبر اور ناانصافی کے خلاف،حقوق امن ترقی کیلئے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور عوام کو منظم کرے گی۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو امن، عدل اور انصاف فراہم کرنے سے احساسِ محرومی، ردعمل اور نفرت میں کمی آ سکتی ہے۔بلوچستان میں بدامنی کی بنیادی وجوہات بے روزگاری،بدعنوانی،جائزانسانی معاشی حقوق سے محرومی اور انصاف کی عدم فراہمی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عوامی آواز کو دبایاجارہا ہیوسائل اور اختیارات سے محروم رکھا جا رہا ہے اور جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانے کو جرم بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان روزگار،تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔انہوں نے کہاکہ زندہ سلامت نوجوانوں کو ماورائے عدالت لاپتا کیا جاتا ہے اور بعض اوقات ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں کب تک جبر،لاقانونیت اور ناانصافی کا سلسلہ جاری رہے گااور عوام کو بنیادی انسانی حقوق،وسائل اور اختیارات سے محروم رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان ظلم،جبر اور لاقانونیت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں