بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی پریس ریلیز کے مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ فارم 47 کے حکمران جعلی وزیر اعلی اور وزرا کی وجہ سے بلوچستان تباہی کے داہنے تک پہنچ چکا ہے۔
لاپتہ افراد سے متعلق دیے گئے غیر ذمہ دارانہ، غیر سنجیدہ اور حقائق کے منافی بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ایسے حساس اور انسانی مسئلے کو محض سیاسی بیان بازی کے ذریعے جھٹلانے کی کوشش نہ صرف قابلِ افسوس ہے بلکہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ حکمران بلوچستان کے حقیقی مسائل اور عوام کے احساسات کو سمجھنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔
بلوچستان میں ہزاروں خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ مائیں اپنے بیٹوں، بہنیں اپنے بھائیوں اور بچے اپنے والدین کی واپسی کے منتظر ہیں۔ ایسے حالات میں لاپتہ افراد کی فہرستوں اور ان کے خاندانوں کے دکھ کو ہی مشکوک قرار دینا ان خاندانوں کی دہائیوں پر محیط اذیت کی توہین اور بلوچ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
حکمرانوں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ آج بلوچستان جس سنگین سیاسی، سماجی اور انسانی بحران سے دوچار ہے، وہ کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ حکمرانوں کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویے، طاقت کے استعمال، سیاسی و جمہوری آوازوں کو نظرانداز کرنے اور عوام کے بنیادی مسائل سے چشم پوشی کا نتیجہ ہے۔ جبری گمشدگیوں جیسے سنگین مسئلے سے انکار کرنے کے بجائے اسے سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکمرانوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے آوازیں دبائی جا سکتی ہیں، لیکن عوام کے احساسِ محرومی، دکھ اور سوالات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
بلوچستان کے حالات کو مزید خرابی کی طرف لے جانے کی ذمہ داری ان قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو عوام کے حقیقی مسائل کا سیاسی اور جمہوری حل تلاش کرنے کے بجائے انکار، الزام تراشی اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ بی این پی ان وزرا کے پس پردہ سرپرستوں سے سوال کرتی ہے کہ اگر لاپتہ افراد کا مسئلہ محض فہرستوں کا معاملہ ہے تو ان ہزاروں خاندانوں کے دکھ اور برسوں سے جاری انتظار کو کس کھاتے میں شمار کیا جائے؟ کیا ان ماں کی فریادیں، بہنوں کے احتجاج اور خاندانوں کی مسلسل جدوجہد بھی جھوٹ ہے؟
حکومت اور حکمران طبقہ حقائق سے نظریں چرا کر تاریخ اور عوام دونوں کو دھوکا نہیں دے سکتے۔ بیان میں کہا گیا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے انسانی، آئینی اور قانونی مسئلے کے طور پر حل کیا جائے۔ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے ان کے اہلِ خانہ کو آگاہ کیا جائے اور اگر کسی شخص کے خلاف کوئی مقدمہ یا الزام موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کے سلگتے ہوئے حالات کو مزید غیر ذمہ دارانہ بیانات اور حقائق کے انکار سے خراب کرنے کے بجائے حکمران سنجیدگی، تدبر اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کریں۔
بلوچستان کے عوام کو انکار نہیں، انصاف چاہیے؛ دعوے نہیں، عملی اقدامات چاہیے؛ اور سب سے بڑھ کر اپنے پیاروں کی سلامتی اور واپسی کی ضمانت چاہیے۔









