امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی پسماندگی،معاشی محرومی اور عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کی بڑی وجوہات میں فرسودہ سرداری نظام، غیر مؤثر انتظامی ڈھانچہ،بدعنوانی، بدامنی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم شامل ہیں۔
بلوچستان قدرتی وسائل،معدنیات اور طویل ساحلی پٹی سے مالامال ہونے کے باوجود یہاں کے عوام تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی اور بنیادی شہری سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان خیالات کااظہارانہوں نے گوادرمیں وفودسے ملاقات وتقاریب سے خطاب میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی دور میں قائم کیے گئے انتظامی ڈھانچے اور سرداری نظام کی باقیات نے عوامی اختیار اور ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں۔
وقت کاتقاضاہے کہ موروثی بالادستی،موروثی سیاست کے بجائے قانون کی حکمرانی، میرٹ،انصاف اور عوامی اختیار کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام عوام بھی اپنے بنیادی حقوق حاصل کر سکیں۔بلوچستان کے قدرتی وسائل ریکوڈک،سیندک،معدنیات اور عوام سے حاصل ہونے والے محصولات کے ثمرات مقامی آبادی تک پہنچنے چاہئیں۔
ضلعوں اور بلدیاتی اداروں کو حقیقی مالیاتی و انتظامی خودمختاری دی جائے تاکہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، سڑکوں اور روزگار کے منصوبوں پر وسائل خرچ کر سکیں۔مالیاتی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ساتھ شفافیت،مؤثرنگرانی اوراحتساب کا نظام بھی ضروری ہے۔
ہر ضلع میں جمع ہونے والے محصولات اور ترقیاتی فنڈز کی آمدن و اخراجات کا باقاعدہ حساب عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ کرپشن کی روک تھام اور سرکاری وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
تمام اضلاع کے حالات اور وسائل یکساں نہیں ہیں اس لیے کم وسائل رکھنے والے اور پسماندہ اضلاع کے لیے خصوصی ترقیاتی گرانٹس اور منصفانہ مالیاتی تقسیم کانظام وضع کیا جائے۔
ترقی کا مقصد صرف بڑے شہروں تک سہولیات محدود رکھنا نہیں بلکہ دور
دراز علاقوں کے عوام کو بھی تعلیم، علاج، صاف پانی اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب عوام کو اپنے وسائل پر اختیار، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات میسر نہیں ہوں گی تو احساسِ محرومی میں اضافہ ہوگا۔
بلوچستان میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو فیصلہ سازی میں شریک کیا جائے، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے اور قومی وسائل کی تقسیم میں انصاف کو بنیادی اصول بنایا جائے۔
مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے، سرداری و موروثی بالادستی کے بجائے قانون کی حکمرانی کو فروغ دیا جائے اور وفاقی و صوبائی فنڈز کے استعمال کو شفاف بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب وسائل کے فیصلوں میں مقامی عوام کی آواز شامل ہو اور ترقی کے ثمرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچیں۔









