112

فلسطین: یہودی چال، عثمانی سلطان اور قائد اعظم

اس وقت غزہ کو عالمی کنٹرول میں دینے کی بات ہو رہی ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی 1916 اور 1947 میں فلسطین کو عالمی کنٹرول میں دینے کی بات ہوئی تھی لیکن بالآخر اس چال کے ذریعے فلسطین کو برطانیہ اور بعد میں یہودیوں کے کںٹرول میں دے دیا گیا، یہ سب کیسے ہوا آئیے سمجھتے ہیں۔

سلطنت عثمانیہ اپنی جاہ و جلال کے بعد پستی کی طرف بڑھ رہی تھی، اندرونی سازشوں کے ساتھ ساتھ بھاری قرضے کا بھی سامنا تھا، دوسری جانب بڑے یہودی رہنما ایک یہودی ریاست کے لئے کوششیں کر رہے تھے، اسی مقصد کیلئے صیہونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل نے سلطنتِ عثمانیہ کا بھاری قرضہ ادا کرنے کے بدلےعثمانی سلطان عبدالحمید ثانی سے فلسطین کی زمین مانگی لیکن سلطان نے واضح انکار کردیا۔

تھیوڈور اور باقی یہودی رہنماؤں نے اپنی دولت اور اثرورسوخ برطانیہ کے پلڑے میں ڈال دیا اور سلطان کے خلاف بھی سازشیں شروع کر دیں، 1909 میں سلطان کو ایک اندرونی بغاوت کے نتیجے میں معزول کر دیا گیا، معزولی کے بعد 1911 میں سلطان عبدالحمید نے پیش گوئی کی کہ یہ صرف آغاز ہے یہودیوں کا اصل مقصد ایک ریاست کا قیام ہے۔

اس کے چند سالوں بعد پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی، 1916 میں فرانس، روس، برطانیہ اور اٹلی نے ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کے نتیجیے میں سلطنتِ عثمانیہ کی زمینوں کو تقسیم کرنے کا فارمولا بنایا گیا، جسے Sykes-Picot Agreement کہا جاتا ہے، اس فارمولے کے تحت عرب علاقوں کو ان بڑے ممالک میں تقسیم کیا گیا لیکن فلسطین کی عالمی اہمیت کی وجہ سے اس کا بڑا حصہ عالمی کنٹرول میں دینے کی بات ہوئی تاہم اس کا مقصد کچھ اور تھا جو بعد میں 1917 کے بالفور اعلامیے سے واضح ہوا۔

بالفور اعلامیے میں برطانیہ کی جانب سے یہودی قوم کیلئے ایک وطن کے قیام کی حمایت کی گئی تھی، یہ اعلامیہ برطانیہ کے وزیرِ خارجہ آرتھر بالفور کی طرف سے برطانیہ میں یہودی کمیونٹی کے ایک بڑے رہنما روتھ چائلڈ کو ایک خط کی صورت میں بھیجا گیا تھا۔

یہ دراصل عالمی صیہونی تحریک کی کامیابی کا آغاز تھا، فلسطین کو سلطنتِ عثمانیہ سے چھیننے کے بعد برطانیہ نے یہودیوں کے لئے فلسطین کے دروازے کھول دیئے، آپ چند ہوشربا اعداد و شمار سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حالات کو کیسے یہودیوں کے حق میں موڑا گیا، الجزیرہ میں شائع ریسرچ کے مطابق 1918 میں فلسطین میں یہودی آبادی صرف 6 فیصد تھی، لیکن 1947 تک بڑھ کر 33 فیصد ہوگئی۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے انہی دنوں میں خبردار کیا تھا کہ برطانوی سامراج عرب دنیا میں ایک ناسور پیدا کر رہا ہے، سب جانتے ہیں کہ قائداعظم ہمیشہ امن پسندی اور قانون پر عملدرآمد پر یقین رکھتے تھے لیکن فلسطین کے معاملے پر ان کا موقف غیر معمولی طور پر سخت تھا، فروری 1946 میں نیویارک ٹائمز کے نمائندے سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کی مدد کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے، اگر ضرورت پڑی تو تشدد تک بھی۔

اسی طرح علامہ اقبال کا موقف بھی بڑا واضح تھا، فلسطین میں آبادکاری اور قبضے کے حوالے سے جب یہودیوں نے یہ توجیہہ پیش کی کہ یہ یہودیوں کا آبائی وطن ہے تو اس پرعلامہ اقبالؒ نے اپنے شعر میں کیا تھا:

“ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق، ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا”۔

1947 میں اقوامِ متحدہ نے قرارداد 181 منظور کی جس کے مطابق فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیاخ یروشلم کو عالمی رجیم کے کنٹرول میں ایک “بین الاقوامی علاقہ” قرار دیا گیا، قائداعظم نے بی بی سی کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کو “ناانصافی پر مبنی اور ظالمانہ” قرار دیا اور کہا کہ وہ فلسطین میں عربوں کی ہر ممکن طریقے سے مدد کریں گے۔

اندیشوں کے عین مطابق اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطینیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی، الجزیرہ میں شائع اعداد و شمار کے مطابق 1947 سے 1949 کے درمیان 19 لاکھ کی آبادی میں سے کم از کم 7,50,000 فلسطینیوں کو بے دخل کیا گیا، صیہونی افواج نے فلسطین کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا، فلسطینیوں کی نسل کشی کیلئے تقریباً 530 دیہات اور شہر تباہ کر دیئے، تقریباً 15,000 فلسطینیوں کو شہید کیا۔

یہ مظالم صرف آغاز تھے جو آج تک جاری ہیں، 1967 کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے بڑےعرب علاقے پر قبضہ کر لیا، اس کے بعد 1980 میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم کو بھی اپنے ساتھ ضم کرنے کا اعلان کیا، ان مظالم کے دوران اسرائیل نے انسانیت کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر کئی بار دو ریاستوں کا چورن بیچنے کی کوشش کی جن میں 1993 میں اوسلو معاہدہ بھی شامل ہے لیکن اس کے ساتھ یہودی بستیوں کی توسیع جاری رکھی جس کی وجہ سے امن قائم نہیں ہوسکا۔

اب ایک بار امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کو بھی دیرپا امن کے لئے دو ریاستی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ امن کی ہر کوشش کو اسرائیل نے ہر بارمزید قبضے کیلئے استعمال کیا۔

دو ریاستی حل اور پاکستانی پالیسی کے حوالے سے یہاں ایک حقیقت واضح کرنا بہت اہم ہے کہ قائد اعظم بڑے واضح انداز میں یہ پالیسی بتا گئے تھے کہ فلسطین کا سارا علاقہ فلسطینیوں کا ہے، اگر قائداعظم آج ہوتے تو شاید یہی کہتے کہ دو ریاستی حل دراصل ایک سیاسی فریب ہے کیونکہ جب روز فلسطینی شہید ہو رہے ہوں، وہاں قبضہ جاری ہو اور عوام محصور ہوں تو وہاں غیر واضح خدوخال پر مبنی دو ریاستوں اور امن کے نام پر ایک فریق کو غیر مسلح کر دینا دیرپا حل نہیں بلکہ خطرناک ٹریپ ہےخ پاکستان کو اس منصوبے کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

یہ بڑا واضح ہے کہ اسرائیل نام کی ریاست کو پاکستان سرے سے ہی تسلیم نہیں کرتا یعنی بس ایک مقبوضہ ریاست ہے جس کا نام فلسطین ہے، لیکن اب اگر نئے حقائق کے مطابق فیصلہ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو ریاست کو وہ فیصلہ کرنا چاہیے انصاف کے تقاضوں اور فلسطینیوں کی خواہش کے مطابق ہو، اگر ایسا نہ ہوا تو مستقبل ویسا ہی ہوگا جس کے بارے میں بانی پاکستان محمد علی جناح اور عثمانی سلطان عبدالحمید پیش گوئی کر چکے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں