سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈی جی ہیلتھ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آبادی پر قابو پانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت 2 ارب روپے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2022 میں نیشنل ایکشن پلان پروگرام کے تحت 11 ملین مانع حمل مصنوعات خریدی گئیں، تاہم یہ مصنوعات تاحال مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکیں اور مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں ہر پانچ سال بعد ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے ہونا چاہیے، لیکن آٹھ سال گزرنے کے باوجود سروے نہ ہونے کے باعث مطلوبہ اور مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہو سکے۔
اس پر قائمہ کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے جون تک مکمل کیا جائے۔









