پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی مہنگی فروخت نے بھی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری نرخوں کے باوجود ملک کے مختلف شہروں میں ایل پی جی سینکڑوں روپے اضافی قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے، جبکہ صارفین نے ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اوگرا نے اگست کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 254 روپے فی کلو مقرر کی ہے، تاہم کراچی، لاہور، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں یہ نرخ عملاً نافذ دکھائی نہیں دیتے۔ مختلف علاقوں میں دکاندار اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کر رہے ہیں، جس سے گھریلو اور تجارتی صارفین شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
کراچی میں مختلف علاقوں میں ایل پی جی 340 سے 370 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جس کے باعث گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
شہریوں نے کہا کہ سرکاری نرخ صرف کاغذوں تک محدود ہیں اور مارکیٹ میں اوگرا کی مقررہ قیمت پر گیس دستیاب نہیں۔لاہور میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی قیمت میں نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔ اوگرا کے مقررہ نرخ 254 روپے فی کلو کے مقابلے میں کئی مقامات پر ایل پی جی 450 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
ادھر کوئٹہ میں بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سرکاری نرخ تقریباً 252 روپے فی کلو ہونے کے باوجود ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹ میں ایل پی جی 380 سے 420 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جس سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور دیگر کاروباری شعبوں کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 120 روپے سے زائد اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث کھانا پکانے، چھوٹے کاروبار چلانے اور دیگر روزمرہ سرگرمیوں کی لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
شہریوں نے حکومت اور اوگرا سے مطالبہ کیا ہے کہ مقررہ نرخوں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور ملک بھر میں ایل پی جی کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔









