جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد، عبدالصمد حقیار، مفتی محمد ابوبکر، عبدالباری شہزاد، اختر جان مری، مولانا جمال الدین حقانی، مفتی رشید احمد حقانی اور حاجی عطاء محمد شمشوزئی نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں شام ڈھلتے ہی مختلف علاقوں میں سرعام فحاشی، عریانی اور بے حیائی کو فروغ دینے والے عناصر کا سرگرم ہونا انتہائی تشویش ناک ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں ایسے عناصر کی آزادانہ نقل و حرکت نہ صرف معاشرتی اقدار اور اسلامی تہذیب کے منافی ہے بلکہ اس کے نوجوان نسل پر انتہائی منفی اور خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کی موجودگی میں اس نوعیت کی سرگرمیوں کا جاری رہنا انتظامیہ کی غفلت اور عدم توجہی کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر فحاشی اور عریانی پھیلانے والے عناصر کے خلاف عملی کارروائی کی جاتی تو انہیں سرعام اور بلاخوف ایسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی جرات نہ ہوتی۔
انتظامیہ کی خاموشی اور عدم توجہی نے ایسے عناصر کو مزید حوصلہ دیا ہے جس کے نتیجے میں شہر کا معاشرتی ماحول متاثر اور نوجوان نسل اخلاقی زوال کی جانب دھکیلی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اپنی ذمہ داری سے چشم پوشی ترک کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کرے۔ عوام اپنے شہر میں امن، پاکیزہ ماحول اور باوقار معاشرتی زندگی چاہتے ہیں، نہ کہ ایسی سرگرمیاں جو نئی نسل کے اخلاق و کردار کو متاثر کرنے کا باعث بنیں۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ فحاشی، عریانی اور بے حیائی کے فروغ پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔ اگر انتظامیہ نے عملی اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو جمعیت علماء اسلام احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں اور شاہراہوں پر شام کے بعد ہونے والی مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قانون کے مطابق مؤثر کارروائی کی جائے اور شہر کے معاشرتی ماحول کو خراب کرنے والے عناصر کا سدباب کیا جائے۔









