کوئٹہ ،چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت اہم اجلاس

30

چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت اہم اجلاس میں کوئٹہ ماسٹر پلان پر مؤثر عملدرآمد، شہر میں قائم ڈیری فارمز کو شہری حدود سے باہر منتقل کرنے، پانی کے وسائل کے بہتر استعمال، بلڈنگ کوڈز پر عملدرآمد اور سرکاری ملازمین کے طبی معاوضے کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ شہری منصوبہ بندی و ترقی (UP&D)، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ شہری حدود میں قائم ڈیری فارمز سے فضلہ جات کی تلفی، صفائی و حفظانِ صحت، انسانی و حیوانی صحت، ٹریفک اور ماحولیاتی آلودگی سمیت مختلف مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جس کے پیش نظر ڈیری فارمز کو مرحلہ وار شہری حدود سے باہر منتقل کرنے کی اصولی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں ڈیری فارمز کی منتقلی کے لیے اراضی کی دستیابی، لاجسٹکس اور متوقع اخراجات سے متعلق ابتدائی تجاویز اور تخمینے بھی پیش کیے گئے۔

چیف سیکرٹری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ڈیری فارمز کی منتقلی کے لیے جامع اور قابلِ عمل نفاذی منصوبہ تیار کیا جائے، جس میں مرحلہ وار منتقلی کا شیڈول، ذمہ دار اداروں، ضروری سہولیات، لاجسٹکس اور عملدرآمد کی واضح ٹائم لائن شامل ہو۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ عملدرآمد کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

کوئٹہ ماسٹر پلان کے حوالے سے چیف سیکرٹری نے دستیاب ڈیٹا اور منصوبہ بندی کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ صنعتی، زرعی اور رہائشی زوننگ کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھتے ہوئے شہری آبادی کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کو صاف، محفوظ، منظم اور پائیدار شہری ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے ماسٹر پلان کے نفاذ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط حکمت عملی کے تحت بروقت اقدامات کریں۔

چیف سیکرٹری نے کوئٹہ میں پانی کی قلت کو اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے پانی کے تحفظ اور دستیاب وسائل کے مثر استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے ریچارج ویلز کے قیام اور مساجد کے وضو کے استعمال شدہ پانی کو مناسب طریقہ کار کے تحت دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے اقدام کو سراہا اور اس حوالے سے عملی اقدامات مزید مثر بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے بلڈنگ کوڈز پر مثر اور بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہری منصوبہ بندی کے ضوابط پر عملدرآمد میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں سرکاری ملازمین کے طبی معاوضے اور ری ایمبرسمنٹ کے موجودہ نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے موجودہ پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور طبی اخراجات کی ادائیگی کے لیے مثر، شفاف اور یکساں نظام وضع کرنے کی فوری ہدایت کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ری ایمبرسمنٹ کے لیے باقاعدہ اور واضح قواعد و ضوابط وضع کیے جائیں اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک ناقابلِ قبول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ غریب اور مستحق عوام کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو سرکاری ملازمین کے لیے ہیلتھ کارڈ کے نفاذ کے عمل کو تیز کرنے، مربوط ڈیجیٹل میکانزم قائم کرنے اور تمام متعلقہ محکموں کے درمیان مثر رابطہ و ہم آہنگی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اصلاحاتی اقدامات میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ ادارے مقررہ اہداف کے مطابق پیش رفت یقینی بنائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں