جمعیت علما اسلام حلقہ سریاب، مولانا عبیداللہ سندھی یونٹ کلی سردہ کے امیر مولانا عطا اللہ رحمانی، مفتی ممتاز احمد عثمانی، مفتی نیاز محمد قلندر، مفتی عبد القیوم، قاری مسیح اللہ، مولوی ثنا اللہ، حافظ عبدالرف، مولوی حبیب اللہ، قاری محمد ارشاد اکمل اور دیگر سینئر اراکین نے مجلسِ شوری و عاملہ کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سریاب میں یوٹیلیٹی بلز کی وصولی کے لیے ڈاکخانوں کی بندش پر شدید تشویش اور سخت احتجاج کا اظہار کیا ہے۔
رہنماں نے کہا کہ سریاب کوئٹہ کا ایک گنجان آباد اور وسیع علاقہ ہے، مگر افسوس کہ یہاں عوام کو بنیادی سرکاری سہولیات کی فراہمی کے بجائے آئے روز مشکلات کے نئے پہاڑ کھڑے کیے جا رہے ہیں۔
خصوصا بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کے معاملے میں شہری شدید اذیت سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کے بھاری بھرکم بل غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کے لیے پہلے ہی ناقابلِ برداشت بن چکے ہیں۔
جب کوئی صارف متعلقہ ادارے سے اپنا بل اقساط میں تبدیل کرواتا ہے تو اس کے بعد مقررہ قسط جمع کرانے کے لیے پوسٹ آفس پہنچتا ہے، مگر وہاں اسے معلوم ہوتا ہے کہ متعلقہ ڈاکخانہ بل وصول کرنے کی سہولت سے محروم یا بند ہے۔رہنماں نے کہا کہ مزید ستم یہ ہے کہ جب شہری متبادل کے طور پر بینک کا رخ کرتے ہیں تو بعض مقامات پر بینک بھی یوٹیلیٹی بل وصول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔
ایسے حالات میں ایک عام شہری آخر کہاں جائی کیا وہ دن بھر سرکاری دفاتر اور بینکوں کے چکر کاٹتا رہی کیا بزرگ، خواتین، مزدور اور کم آمدنی والے افراد اس اذیت کے مستحق ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ ڈاک اور متعلقہ یوٹیلیٹی اداروں کی باہمی عدمِ رابطگی کا خمیازہ عوام کیوں بھگتیں اگر کسی علاقے کے ڈاکخانے میں بل وصول کرنے کی سہولت ختم کی گئی ہے تو عوام کو باقاعدہ متبادل انتظام فراہم کیا جائے، بصورتِ دیگر یہ عمل شہریوں کو دانستہ طور پر مشکلات میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
جمعیت علما اسلام کے رہنماں نے پاکستان پوسٹ کے پوسٹ ماسٹر جنرل (PMG)، ڈائریکٹر جنرل پوسٹل سروسز (DG)، چیف پوسٹ ماسٹر اور دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ سریاب کے تمام ڈاکخانوں کی صورتحال کا فوری جائزہ لیا جائے، بند یا غیر فعال ڈاکخانوں کو فوری طور پر فعال کیا جائے اور یوٹیلیٹی بلز کی وصولی کا مثر، مستقل اور آسان نظام بحال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو سہولت فراہم کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، عوام کو دربدر کرنا نہیں۔ اگر کسی انتظامی یا مالی مسئلے کی وجہ سے ڈاکخانوں میں یوٹیلیٹی بلز کی وصولی متاثر ہو رہی ہے تو اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ غریب شہریوں کو بل جمع کرانے کے لیے ایک دفتر سے دوسرے دفتر بھیجنا ناقابلِ قبول ہے۔رہنمائوں نے خبردار کیا کہ اگر PMG، DG Postal Services اور متعلقہ اعلی حکام نے فوری طور پر اس سنگین عوامی مسئلے کا نوٹس نہ لیا اور سریاب کے ڈاکخانوں میں یوٹیلیٹی بلز کی وصولی بحال نہ کی تو جمعیت علما اسلام حلقہ سریاب اس معاملے کو ہر متعلقہ فورم پر بھرپور انداز میں اٹھانے اور عوام کے حق کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سریاب کے عوام خاموش ضرور ہیں لیکن اپنے بنیادی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ حکومت اور محکمہ ڈاک کو چاہیے کہ عوامی مشکلات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری عملی اقدامات کرے، محض زبانی یقین دہانیوں اور کاغذی کارروائی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔جمعیت علما اسلام حلقہ سریاب نے مطالبہ کیا کہ اعلی حکام فوری طور پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر سریاب کے تمام ڈاکخانوں میں یوٹیلیٹی بلز کی وصولی، سہولیات کی دستیابی اور بندش کی وجوہات سامنے لائیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف فراہم کریں۔









