امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ایران

19

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا فعال تبادلہ جاری ہے لیکن واشنگٹن ماضی میں مذاکرات میں دھوکا دے چکا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے غیرملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایران کی ترجیح اب بھی حملوں کے جواب میں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے۔

ایرانی حملوں کا خوف؛ اسرائیلی وزیراعظم کی امریکا کی جانب دوڑ؛ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
ایرانی حملوں کا خوف؛ اسرائیلی وزیراعظم کی امریکا کی جانب دوڑ؛ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے

انہوں نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داری 30 دن کے اندر پوری کر دی تھی، تاہم اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی امریکا نے مبینہ بحری واقعات کو جواز بنا کر نئے حملے شروع کر دیے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ تیسرا موقع ہے کہ مذاکرات کے دوران حملوں کے ذریعے ایران کی سفارت کاری کو دھوکا دیا گیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا نے مفاہمت کی یادداشت کے تحت ایران کے منجمد اثاثے بھی جاری نہیں کیے حالانکہ معاہدے میں یہ شق طے پائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں