نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے ضلع دیر پائین، خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے گریڈ 20 کے کسٹمز افسر ڈاکٹر کرم الٰہی کے خلاف قائم مقدمے اور ان کے حوالے سے جاری میڈیا ٹرائل پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی دیانتدار، فرض شناس اور باکردار سرکاری افسر کو شفاف قانونی عمل مکمل ہونے سے قبل میڈیا میں متنازع بنا دینا نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے بلکہ پورے نظامِ انصاف اور ریاستی اداروں کے لیے بھی لمح فکریہ ہے۔
اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں ایمانداری، دیانت داری اور فرض شناسی کا صلہ یہ ہو کہ ایک افسر کو میڈیا ٹرائل، بے بنیاد الزامات اور ذہنی دبا کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے نہ صرف متعلقہ افسر بلکہ دیگر سرکاری ملازمین کے حوصلے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ایسے حالات میں شفاف طرزِ حکمرانی، میرٹ، احتساب اور قانون کی بالادستی کے دعوے کمزور پڑ جاتے ہیں، جبکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کرم الہی کے اہل خانہ بھی اس صورتحال کے باعث شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں، حالانکہ انصاف کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی مقدمے کا فیصلہ عدالت اور قانون کے مطابق ہو، نہ کہ میڈیا رپورٹس یا قیاس آرائیوں کی بنیاد پر۔ ہر شہری اور ہر سرکاری افسر کو آئین پاکستان کے تحت منصفانہ سماعت، عزتِ نفس اور قانونی تحفظ کا حق حاصل ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر کرم الہی کے خلاف قائم مقدمے کی مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، حقائق سامنے لائے جائیں، میڈیا ٹرائل کا سلسلہ بند کیا جائے اور اگر الزامات ثابت نہ ہوں تو انہیں فوری انصاف فراہم کرتے ہوئے ان کی ساکھ بحال کی جائے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ قانون کی بالادستی، انصاف کی بروقت فراہمی اور بے گناہ افراد کے حقوق کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ دیانتدار افسران کا اعتماد بحال رہے اور وہ بلا خوف و دبا اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ڈاکٹر کرم الہی کا پیشہ ورانہ ریکارڈ دیانت داری، شفافیت اور فرض شناسی سے عبارت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعلی بلوچستان بھی ایک پریس کانفرنس میں ڈاکٹر کرم الہی کی دیانت داری کو سراہتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ایسے ایماندار افسران صوبے کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں اور حکومت انہیں ترجیح دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افسران کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، نہ کہ انہیں غیر ضروری مقدمات اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے ذہنی دبا وکا شکار بنایا جائے۔
واضح رہے کہ گریڈ 20 کے کسٹمز افسر ڈاکٹر کرم الہی کوئٹہ میں تعینات تھے۔ ان کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ 400 کلوگرام چاندی لاہور منتقل کی گئی جو منزل پر پہنچنے کے بعد مقدار میں کم نکلی۔ تاہم ڈاکٹر کرم الہی ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ان پر عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔









