جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کی ضلعی مجلسِ عاملہ کا اہم اجلاس ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق کی زیرِ صدارت ضلعی دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں جماعتی امور تنظیمی سرگرمیوں اور عوامی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ بالخصوص 22 مئی کو مہنگائی، بدامنی اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف منعقد ہونے والی احتجاجی ریلی اور 4 جون کو قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن کے دورہ بلوچستان کے سلسلے میں ضلع پشین میں منعقد ہونے والے عظیم الشان جلسہ عام کی تیاریوں کا جامع جائزہ لیا گیا جبکہ ان پروگراموں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
اجلاس میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ریاست اور متعلقہ انٹیلی جنس ادارے قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن اور اُن کے رفقاء کی سیکیورٹی کے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں اور محض تھریٹ الرٹس جاری کرکے اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔
اجلاس میں ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، مرکزی مجلس فقہی کے سربراہ مفتی محمد روزی خان، حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا محب اللہ، مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مینگل، حاجی صالح محمد سمیت دیگر زمہ داران نے شرکت کی۔
اجلاس کے شرکاء نے صوبہ بھر خصوصاً شہرِ کوئٹہ میں بڑھتی ہوئی بدامنی، قتل و غارت گری، ڈکیتی کی وارداتوں اور عوام کے جان و مال کے عدم تحفظ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شہریوں کے تحفظ، سہولیات کی فراہمی اور قیامِ امن میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ اجلاس میں صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ نیز لاک ڈاؤن کے نام پر تاجروں اور دکانداروں کے معاشی استحصال کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عوام دشمن طرزِ عمل قرار دیا گیا۔
اجلاس نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، قیامِ امن، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے فوری خاتمے اور تاجروں و دکانداروں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں مرکزی جماعت کے فیصلے کی روشنی میں 22 مئی کو مہنگائی، بدامنی اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف کوئٹہ میں عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
احتجاجی ریلی 22 مئی کو سہ پہر 3 بجے ضلعی دفتر سے روانہ ہوگی۔ اجلاس میں تمام یونٹوں کے ذمہ داران کو ہدایت کی گئی کہ وہ ریلی کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر بھرپور تیاریوں کا آغاز کریں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن رفیق نے کہاکہ حکمران طبقے کی ظالمانہ اور عوام دشمن پالیسیوں نے قوم کو شدید مایوسی اور اضطراب سے دوچار کر دیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی میں ہوشربا اضافے نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کیے گئے جعلی حکمران محض پروٹوکول اور نمائشی اختیارات تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں









