بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی ستمبر میں قومی کانفرنس بلائے گی، لیاقت بلوچ

13

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے بلوچستان کے حالات کو گھمبیر قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان حکومتی اتحادیوں کے ساتھ ملکر مسائل کے حل کیلئے قومی کانفرنس بلاتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور ان حالات پر اپوزیشن نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا حالات کا تقاضا تھا کہ سیاسی جمہوری قوتیں بلوچستان کے سلگتے ہوئے حالات کی بہتری میں اپنا کردار ادا نہیں کرپارہیں۔

اس لئے ہماری جماعت حالات کی بہتری کیلئے ستمبر میں قومی کانفرنس منعقد کریں گے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں ، اسٹیک ہولڈرز اور شخصیات کو دعوت دی جائے گی۔ ہم بلوچستان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی بلوچستان اور ضلع کوئٹہ کے رہنماوں زاہد اختربلوچ، بشیر احمدماندائی، حافظ نور علی، عارف دمڑ، عبدالولی شاکر، اعجاز محبوب سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے تناظر میں جو بحران پیدا ہوا اور عوام دہشت گردی کے واقعات سے دو چار ہوئے انہیں مد نظر رکھتے ہوئے قومی کانفرنس کا انعقاد ناگزیر تھا لیکن موجودہ حکومت بے بس اور بے اختیار ہے اس میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کی بہتری کیلئے مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں حق دو کی تحریک کا آغاز کیا گیااسلام آباد میں دھرنے کے دوران حکومت کی جانب سے کمیٹی تشکیل دینے کا وعدہ کیا گیا جو آج تک وفا نہ ہوسکا کیونکہ موجودہ حکومت پریس ریلیز پر چل رہی ہے انہوں نے ہنہ اورک اور زیارت کے المناک واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بحال ہونے چاہئیں موجودہ حالات کے تناظر میں امریکہ دنیا بھر میں اپنی طاقت کھو چکا ہے اور ایران کے ساتھ بارڈر ٹریڈ پر عوام کے حقوق سلب نہ کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم امن کے قیام کیلئے قومی سطح پر اپنا کردار ادا کریں گے ہمارا موقف روز روشن کی طرح عیاں ہے اور ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اس لئے عوام کو ان کے حق سے محروم نہ رکھا جائے بلوچستان کے نوجوانوں میں بہت سی صلاحیتیں اس لئے ہماری جماعت نوجوانوں اور خواتین کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کیلئے بنو قابل پروگرام شروع کیا ہے ۔

عوام دہشت گردی کے سانحات سے دو چار ہیں دوسری جانب سیکورٹی فورسز عوام کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپناتے ہوئے ان کے زخموں پر مزید نمک چھڑک رہے ہیں بلوچستان میں طویل عرصے سے فوج اور نیم فوجی دستے حالات کو بہتر بنانے میں مکمل طور پر ناکام اور ان کے دعوے بھی بے بنیاد ہیں۔ جس طرح وفاقی وزیر داخلہ کے ایس ایچ او کے مار کے بیان سے مزید اشتعال پھیلا انہوں نے کہا کہ ہم نے فلسطین اور ملکی صورتحال سمیت بلوچستان کے حالات کے حوالے سے قومی کانفرنس بلانے کی تجویز دی یقین دہانی کے باوجود انعقاد نہ ہوسکا اسی طرح قومی دینی جماعتیں بھی مشترکہ سیاسی لائحہ عمل طے کرنے میں ناکام رہیں۔

پی ٹی آئی عوامی مقبولیت کا دعویٰ کرتی ہے لیکن وہ اپنا کردار ادا نہ کرسکی۔ جس طرح سوشل میڈیا کی دنیا سچ اور جھوٹ کی بنیاد پر بڑی طاقت بن گئی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی اور مرکزی مجلس شوریٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر میںقومی کانفرنس منعقد کریں گے جس میں سیاسی جماعتوں ، اسٹیک ہولڈر زور شخصیات کو مدعو کیا جائے گا اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دیپ گئی ہے جو رابطے کرے گی انہوں نے کہا کہ طاقت کے ذریعے حالات پر قابو پانے کا تجربہ ناکام ہوگیا ہے اس آزمائے گئے ناکارہ نظام کی بجائے ازسر نو عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لئے بہتر نظام کی ضرورت ہے بلوچستان کے عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ زنی، منشیات کی سمگلنگ کرپشن یہاں کے عوام کے لئے قابل قبول نہیںبلوچستان میں من پسند لوگوں کو عوام پر مسلط کرنے کا تجربہ ناکام ہوچکا ہے ملک میں معاشی سیاسی اقتصادی بحران ہے جس کی وجہ سے مہنگائی ، بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے بھی کوئی شنوائی نہیں ہورہی انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایران کے عوام کے ساتھ ہے اس لئے اپنی سرزمین پر امن کی بحالی کے لئے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں