لبنان میں جنگ بندی کے فوری بعد اسرائیلی جارحیت؛ حزب اللہ کے جوابی حملے میں فوجی ہلاک

1

امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے فوری بعد حزب اللہ سے جھڑپ میں صیہونی فوج کا ایک اہلکار مارا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ لبنان کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے ٹینک شکن میزائل حملے میں ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔

ہلاک ہونے والا اسرائیلی فوجی لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک ملٹری آپریشن میں شریک تھا جب حزب اللہ کی جانب سے داغا گیا اینٹی ٹینک میزائل اس کے قریب آ کر پھٹ گیا۔

ہلاک ہونے والے فوجی افسر کی شناخت کیپٹن 21 سالہ ایتان شموئیل لیمبرگ کے نام سے ہوئی جو ساتویں بکتر بند بریگیڈ کی 75ویں بٹالین کا حصہ تھا اور اسرائیلی شہر مِشمار ہاشیوا کا رہائشی تھا۔

حزب اللہ کے اس حملے میں اسرائیلی فوج کے دیگر اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم زخمیوں کی درست تعداد فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن اپنی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے ابھی تک اس حملے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف راکٹ، ڈرون اور میزائل حملے کیے، جس کے نتیجے میں لبنان اور شمالی اسرائیل کے سرحدی علاقوں سے ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم ہے جو شمالی سرحد پر مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں