عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام پر مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں، ایرانی وزیرخارجہ

26

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کابینہ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز سے متعلق تہران اور مسقط کے درمیان کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق اس اہم آبی گزرگاہ میں مستقبل کے بحری سفر کے انتظامات کے لیے ایک طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

تہران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو کیے گئے حملے کے بعد آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے بند کردیا تھا اور اس حوالے سے ایران کا مؤقف ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی نقل و حرکت مفاہمت کے مطابق ایرانی انتظامات کے تحت ہی ہونی چاہیے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کسی بھی صورت میں فروری میں شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی شروع کی گئی بلااشتعال جنگ سے پہلے والی صورت حال پر بحال نہیں ہوگی۔

انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی شق 5 کے تحت آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامات ایران کی جانب سے عمان کے ساتھ مشاورت اور خطے کے ممالک کے ساتھ مشاورت کے ذریعے انجام دیے جانے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے طے شدہ بحری راستہ نہ موجودہ شمالی راستہ ہوگا اور نہ موجودہ جنوبی راستہ ہوگا بلکہ ایک نیا راستہ ہوگا جس پر دونوں فریق اتفاق کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں