ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بلوچستان کے زیرِ اہتمام عید ملن پارٹی اور بار روم کی تزئین و آرائش کی افتتاحی تقریب ہائی کورٹ کے بار روم میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران خان ملاخیل، بلوچستان ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان اور وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس جسٹس کامران خان ملاخیل نے کہا کہ صوبے میں عدالتی نظام کی بہتری، وکلاء کی فلاح و بہبود اور عدالتوں کی سیکیورٹی عدلیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں تاکہ عوام کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں 8 اگست 2016 کے سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ میں شہید ہونے والے وکلاء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور وکلاء برادری کی جدوجہد اور قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔انہوں نے وکلاء پر زور دیا کہ وہ اپنے پیشے میں محنت، دیانت اور مہارت کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ ایک قابل اور باصلاحیت وکیل ہی مستقبل میں ایک مضبوط اور مؤثر عدالتی نظام کی بنیاد رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینچ اور بار کے درمیان باہمی احترام اور مضبوط تعلق انصاف کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اور ان کا بار کے ساتھ ذاتی اور پیشہ ورانہ تعلق کئی دہائیوں پر محیط ہے۔چیف جسٹس کامران خان ملاخیل نے مزید بتایا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں سیشن کورٹس کی مرمت، جدید سیکیورٹی نظام کی تنصیب، عدالتوں کو سولر توانائی پر منتقل کرنے، ڈیجیٹل لائبریریوں کے قیام اور وکلاء کے لیے تربیتی پروگرامز سمیت متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔
تقریب سے صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن عطاء اللہ لانگو اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے معزز چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان کا بار روم آمد اور عید ملن تقریب میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور عدالتی اصلاحات کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے صوبے میں انصاف کی فراہمی کا نظام مزید مؤثر ہوگا۔









