54

حکومت کا 142 نکاتی گورننس امپورومنٹ ایکشن پلان کا اعلان

عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایف ایم ) کی جانب سے گورننس کی خامیوں اور کرپشن کی نشاندہی کے بعد حکومت نے 142 نکاتی گورننس امپورومنٹ ایکشن پلان کا اعلان کر دیا۔

یہ ایکشن پلان وزیراعظم شہباز شریف کے اکنامک گورننس اصلاحات کا حصہ ہے، جس میں کریشن سے قومی خطرات کی تشخیص اور نیب سمیت اہم اداروں میں آئین کے مطابق تقرریاں شامل ہیں تاکہ عوام میں ان کی ساکھ بہتر بنائی جا سکے۔

ایجنڈے کی لانچنگ تقریب سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اصلاحات کے اس منصوبے میں عالمی اداروں کی سفارشات کا شامل کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے نے کہا کہ ان کے گورننس پلان کے تحت 59 ترجیحی اقدامات اور 83 تکمیلی اقدامات ہیں۔ اس سے ان مطلوبہ اقدامات کی کل تعداد 142 ہو جاتی ہے جنہیں اگلے تین سالوں میں لاگو کیا جانا ہے۔

پاکستان کے عوام نے گزشتہ دو سالوں کے دوران بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ معاشی بہتری کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں اور مشکل فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی ہے، غیر متزلزل عزم کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا گیا اور ملک کو درست سمت میں گامزن کر دیا گیا۔

اگر یہی رفتار برقرار رہی تو کامیابی ہمارا مقدر ہو گی۔وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار سنبھالتے وقت معیشت شدید چیلنجز کا شکار تھی، افراطِ زر تقریباً 30 فیصد تک پہنچ چکا تھا اور زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے تھے، تاہم مشکل فیصلے کیے گئے اور معیشت کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گورننس پلان تین بنیادی اسٹریمز پر مبنی ہے جو کہ ترقی پر مبنی مالیاتی اور عوامی سرمایہ کاری کی حکمرانی، مارکیٹ کے اعتماد کو بڑھانا اور ضابطوں کو آسان بنانا اور قانونی عمل میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔

وزارت خزانہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرے گی جبکہ یوکے ڈیولپمنٹ آفس کے تکنیکی ترقی کے لیے کام کرے گی۔

وزارت خزانہ نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ جہاں متعلقہ ہو، آئی ایم ایف توسیعی فنڈ سہولت کے ساتھ سیدھ (منصوبہ) کو آئی ایم ایف کی شرکت کے ذریعے پلان پر عمل درآمد کے لیے ان مکالموں میں تقویت دی جائے گی، حتمی رپورٹ مارچ 2027 میں پیش کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں