سینٹ گیبریل پرائمری سکول کی زمین پر قبضے کی مذمت کرتے ہیں، لشکری رئیسانی

20

سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ سینٹ گیبریل پرائمری اسکول کی زمین پر قبضے، الاٹمنٹ کی مذمت، اقلیتوں کے حقوق کا ہر فورم پر دفاع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلی میں بیٹھ کر عوامی مفاد کی مخالفت کرنے والوں کا راستہ روکیں گے۔

یہ بات انہوں نے چوہدری رام چند ایڈووکیٹ، سودام چند، روفن، کیون، گر بخش ودیگر پر مشتمل ہندو اور کرسچن کمیونٹیز کے نمائندہ وفد سے پیر کے روز سراوان ہا س میں ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وفد نے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کوکوئٹہ کے آرچر روڈ پر واقع سینٹ گیبریل پرائمری اسکول پر قبضے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ اسکول کی اراضی کو 1956کو گوروارہ سنگھ سبھا کے نام پر انتقال کی گئی، جسے بعدازاں تعلیمی مقاصد کیلئے کیتھولک بورڈ کو دیا گیا گزشتہ تین ماہ سے اسکول کے بچوں اور انتظامیہ کو بے دخل، سکول کی عمارت مہندم کرکے وہاں تجارتی مال تعمیر کیا جارہاہے،

نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ سینٹ گیبریل پرائمری اسکول کی اراضی اقلیت کیلئے وقف ہے اس پر قبضہ گیری کی مذمت کرتے ہیں یہ عمل ناقابل قبول ہے انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کا ہر فورم پر دفاع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ بااثر لوگ عوامی خدمت کی بجائے اسمبلی میں بیٹھ کر عوامی مفادات کی مخالفت میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں ان کا راستہ روکیں گے تاکہ اقتدار میں آنے کے بعد عوامی املاک پرقبضہ کرنے کی روایت کا خاتمہ ہو۔

انہوں نے کہاکہ حسب روایت جب بھی کوئی اقتدار میں آتا ہے تو عوامی ملکیت پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرتا ہے ماضی میں بھی ہونے والے اس قسم کے اقدامات سے آج کوئٹہ شہر ایک بحران، جنگ زدہ شہر کا منظر پیش کررہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں