امریکا، اسرائیل اور شام کے درمیان کئی ماہ سے جاری خفیہ سفارتی رابطوں کے بعد شام کے ایک حساس مقام پر موجود مبینہ نیوکلیئر مواد کو وہاں سے منتقل کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ، شام اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے انتظام کے تحت انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی شام کے خفیہ مقام سائٹ 99 میں موجود نیوکلیئر مواد اپنی تحویل میں لے گی۔
سائٹ 99 میں موجود مواد طویل عرصے سے امریکا اور اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق معاملے کے حل کے لیے کئی ماہ تک پسِ پردہ سفارتی کوششیں جاری رہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے خدشات دور نہ ہونے کی صورت میں سائٹ 99 کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔
اس صورتحال کے بعد امریکی انتظامیہ نے اسرائیل سے کسی بھی کارروائی سے گریز کرنے کی درخواست کی اور آئی اے ای اے کو معاملے میں شامل کیا گیا۔
شام کے سابق صدر بشارالاسد کی حکومت پر خفیہ جوہری پروگرام چلانے اور الکِبار ری ایکٹر قائم کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
اسرائیل نے 2007 میں الکِبار کے مبینہ جوہری ری ایکٹر پر فضائی حملہ بھی کیا تھا۔
بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد آئی اے ای اے کو شام کے جوہری مقامات تک رسائی حاصل ہوئی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام کی موجودہ حکومت نے سائٹ 99 میں موجود مواد تک رسائی اور اسے منتقل کرنے کے معاملے میں مکمل تعاون کیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کو یہ خدشہ بھی تھا کہ ترکیہ شام کو سائٹ 99 سے نیوکلیئر مواد حاصل کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے جس کے باعث معاملہ مزید حساس ہوگیا تھا۔
اب طے شدہ انتظام کے تحت نیوکلیئر مواد کو آئی اے ای اے کی تحویل میں دینے کی تیاری کی جارہی ہے تاہم مواد کی منتقلی کے حتمی وقت اور طریقہ کار سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔









