امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ زندہ انسانوں کو ماورائے آئین و قانون غائب کرنے سے خاندان کے خاندان تباہ ہورہے ہیں۔
نائب امیر جماعت اسلامی چمن طالب عبدالحق 18 روز سے لاپتہ ہیں، حکومت و ادارے کہاں ہیں۔حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے انہیں بحفاظت بازیاب کرکے اہلِ خانہ کے حوالے کریں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ جگر گوشوں کا لاپتہ ہونا اور نوجوان لڑکیوں و نوجوانوں کا پہاڑوں کی طرف جانے سے بہت دکھ و افسوس ہوتا ہے، جمہوری حکومت کے منہ پر یہ سیاہ داغ ہے۔
بلوچستان میں ہر گھر سے کوئی نہ کوئی لاپتہ ہوا ہے، ایف سی، پولیس، افواج، تھانے، چیک پوسٹیں سب بے بس یا خاموش ہیں، ان حالات میں بلوچستان کی مائیں سخت کرب و اذیت سے گزر رہی ہیں۔
مائیں، بہنیں روزانہ گھر کے دروازوں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہوتی ہیں، لاپتہ افراد کے گھروں پر ہر دن قیامت بن کر گزر رہا ہے، خدارا حکومت اور ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کریں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل حل کیے جائیں، روزگار و تجارت کیلئے آسانی و سہولیات فراہم کی جائیں، بارڈرز قانونی تجارت کیلئے کھول دیے جائیں۔ عوام کے دل جیتنے، نفرت و تعصب ختم کرنے اور غم و غصہ کم کرنے کیلئے فوری، عملی اور مخلصانہ کردار ادا کیا جائے۔
دھونس، دھمکی اور طاقت کے استعمال سمیت فوجی آپریشنز جیسے تجربات بند کیے جائیں۔ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال، عزت اور بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، ہر لاپتہ شخص کے معاملے میں اہلِ خانہ کو بروقت معلومات فراہم کی جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل طاقت نہیں بلکہ آئین، قانون، انصاف، مذاکرات اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں ہے۔ بلوچستان کے عوام کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ان کے جائز مطالبات سنے جائیں اور محرومیوں کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔
نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، کاروبار اور قانونی تجارت کے مواقع فراہم کرکے انہیں مایوسی اور بے یقینی سے نکالا جاسکتا ہے۔
حکومت فوری طور پر تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لے کر لاپتہ افراد کے مسئلے کے مستقل اور قابلِ قبول حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔









