وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ احساسِ محرومی یا سیاسی اختلاف کسی بھی صورت تشدد کا جواز نہیں بن سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل صرف تعلیم، مکالمے، سیاسی روابط اور جمہوری طرزِ عمل کے ذریعے ممکن ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان سے ہماری وفاداری غیر مشروط ہے۔ بلوچستان کے عوام ملک کے برابر کے شہری ہیں اور ان کے حقیقی مسائل، ترقیاتی ضروریات اور احساسِ محرومی کو مناسب طور پر سمجھنے اور دور کرنے کی ضرورت ہے۔
وہ ہفتے کے روز لاہور میں یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) کی تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کر رہے تھے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اس وقت تین بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جن میں تشدد کو جائز قرار دینے والے بیانیے، مسلح دہشت گردی اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی سوچ پر اثرانداز ہونے کی کوششیں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقے بلوچستان کی محرومیوں اور عوام کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے کے نام پر ابہام پیدا کرنے اور گمراہ کن بیانیے پھیلانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ غربت، پسماندگی اور محرومی جیسے مسائل کو علیحدگی پسند تشدد کا جواز پیش کرنے یا اس کی حمایت کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے بلوچستان کی صورتِ حال پر تبصرے اور تجزیے کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مؤقف اور تجزیوں کی بنیاد حقائق پر رکھیں اور ایسے بیانیوں کو فروغ دینے سے گریز کریں جن سے تشدد قابلِ قبول دکھائی دینے لگے۔
امن و امان کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مسلح شدت پسند گروہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور صوبے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نہ صرف قیمتی انسانی جانیں لے رہی ہے بلکہ ترقی، معاشی سرگرمیوں، تعلیم اور بہتر مستقبل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہر شہری کو سیاسی اختلاف اور پُرامن مطالبات پیش کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم ہتھیاروں کے ذریعے اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔
سوشل میڈیا کو تیسرا بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں، بالخصوص نئی نسل کو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے گمراہ کن معلومات اور منفی پروپیگنڈے کا سامنا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں میں تنقیدی سوچ پروان چڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ خبروں، دعوؤں اور مختلف بیانیوں کو تحقیق اور مستند شواہد کی روشنی میں پرکھ سکیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جامعات اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری صرف ڈگریاں دینے تک محدود نہیں، بلکہ انہیں ایسے باشعور، ذمہ دار اور تنقیدی سوچ رکھنے والے شہری بھی تیار کرنے چاہییں جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے طلبہ کو وظائف فراہم کرنے پر یو ایم ٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یونیورسٹی نے صوبے کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع فراہم کیے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے سالانہ ایک ارب روپے مختص کرنے کو بھی سراہا اور اسے بین الصوبائی تعاون اور قومی یکجہتی کی ایک قابلِ قدر مثال قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف بلوچستان کے طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع پیدا کرتے ہیں بلکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان اعتماد اور تعلقات کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت طلبہ کو ایسے وظائف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جن کے تحت تعلیمی اخراجات کا 80 فیصد یا اس سے زیادہ حصہ پورا کیا جا سکے، تاکہ مالی مشکلات باصلاحیت نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم کے حصول میں رکاوٹ نہ بنیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور یکساں مواقع تک رسائی فراہم کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری بلوچستان اور پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں اور اگر انہیں مناسب مواقع، رہنمائی اور تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے تعلیم کو نوجوانوں کو انتہا پسندی، تشدد اور گمراہ کن نظریات سے
دور کرکے علم، شعور اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
وزیراعلیٰ نے معاشرے پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل کی رہنمائی امید، محنت اور ترقی کی طرف کرے، تاکہ مایوسی اور منفی پروپیگنڈا ان کے مستقبل پر اثرانداز نہ ہو سکے۔
فارغ التحصیل طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارک باد دیتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گریجویشن تعلیمی سفر کا اختتام نہیں بلکہ عملی زندگی کے ایک اہم نئے باب کا آغاز ہے۔
انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنائیں، بلند اہداف مقرر کریں اور اپنی تعلیم و مہارتوں کو ملک اور معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شعبے میں کامیابی کے لیے محنت، دیانت داری اور ثابت قدمی ضروری ہیں۔
وزیراعلیٰ نے تقریبِ تقسیمِ اسناد میں مدعو کرنے پر یو ایم ٹی کی انتظامیہ، فیکلٹی ممبران اور منتظمین کا بھی شکریہ ادا کیا اور فارغ التحصیل طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔









